جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

تعلیمی اداروں میں ہفتے میں 3 دن چھٹیاں؟ نوٹیفکیشن کی وضاحت آگئی

datetime 18  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا میں تعلیمی اداروں کے لیے ہفتے میں تین تعطیلات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جعلی نوٹیفکیشن نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو پریشانی میں مبتلا کردیا۔

محکمہ تعلیم نے وضاحت کرتے ہوئے اس اعلامیے کو جعلی قرار دے دیا ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق سوشل میڈیا پر زیر گردش نوٹیفکیشن محکمہ تعلیم اور ایڈمنسٹریشن کے نام سے جعلی دستخطوں کے ذریعے جاری کیا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت یا اس کی ہدایات کی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں تین روزہ ہفتہ وار تعطیلات کے حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جس کے تحت تعلیمی ادارے ہر ہفتے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو بند رہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ تین روز سے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف جعلی اعلامیے گردش کرتے رہے، جس سے والدین اور طلبہ میں کنفیوژن پیدا ہوا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے وضاحت جاری ہونے کے بعد بھی ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے نام سے تعلیمی اداروں کی تعطیلات سے متعلق ایک اور اعلامیہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر طلبہ، اساتذہ اور والدین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے کفایت شعاری سے متعلق باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کیا، تاہم اس میں سرکاری دفاتر یا تعلیمی اداروں کے لیے جمعہ، ہفتہ اور اتوار پر مشتمل ہفتے میں تین دن کی تعطیلات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

شہریوں نے جعلی سرکاری اعلامیے سوشل میڈیا پر پھیلانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے جعلی نوٹیفکیشن پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کے احکامات تو جاری کیے جاتے ہیں، تاہم عملی طور پر اب تک مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…