اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ آٹو پالیسی اب تقریبا مکمل ہوگئی ہے بہت جلد اس کا اجرا ہو جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر نے بتایا کہ آٹو پالیسی کے اجرا نہ ہونے کی کچھ وجوہات ہیں گزشتہ 2 آٹو پالیسی کی وجہ سے کامپی ٹیشن بڑھا ہے پہلے صرف 3مینوفیکچرز تھے اور اب 13 ہو گئے ہیں سب سے بڑی تبدیلی اب الیکٹرک وہیکل کی آئی ہے الیکٹرک وہیکلز کو سہولت دینی تھی،نیشنل ٹیرف پالیسی بھی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹو پالیسی سے متعلق کافی بحث ہوئی جس میں کچھ وقت لگا آٹو پالیسی اب تقریبا مکمل ہو گئی ہے
بہت جلد اس کا اجرا ہو جائیگا، آٹو پالیسی اب آخری مرحلے میں ہے لیگل سائڈ پر کام ہو رہا ہے نئی آٹوپالیسی کا اہم مقصد ہے کہ کنزیومر کو گاڑیاں سستی ملیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ پالیسی میں بیلنس رکھا ہے جس سے ہماری گاڑیاں دنیا سے مقابلہ کرسکیں گے پالیسی بنانے میں اس لیے وقت لگا تاکہ ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہ ہوں جب کہ نئی پالیسی میں تمام اضافی کسٹمز اور ریگولٹری ڈیوٹی ختم ہوجائیں گی۔



















































