ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

کینیڈا نے پاکستانیوں کے لیے امیگریشن کے نئے مواقع کھول دیے

datetime 12  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے کینیڈا منتقل ہونے اور مستقل رہائش حاصل کرنے کے حوالے سے مختلف امیگریشن آپشنز موجود ہیں۔ اپنی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ تجربے اور دیگر مقررہ شرائط پوری کرنے والے ڈاکٹر ان پروگرامز کے ذریعے کینیڈا جانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

کینیڈا کے امیگریشن نظام میں ایکسپریس انٹری، پروونشل نومینی پروگرام سمیت بعض علاقائی پروگرامز غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم مستقل رہائش حاصل کرنا طبی پریکٹس کی اجازت کے برابر نہیں، کیونکہ کینیڈا پہنچنے کے بعد ڈاکٹر کو متعلقہ صوبے یا علاقے کی لائسنسنگ شرائط بھی پوری کرنا ہوتی ہیں۔

2026 میں ایکسپریس انٹری کے تحت طبی شعبے سے وابستہ ڈاکٹروں کے لیے مخصوص کیٹیگری بھی شامل کی گئی ہے۔ اس آپشن کے لیے امیدوار کا ایکسپریس انٹری کے تحت آنے والے تین پروگرامز میں سے کسی ایک کے لیے اہل ہونا ضروری ہے، جبکہ گزشتہ تین برس کے دوران کینیڈا میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کم از کم ایک سال کا مکمل وقتی تجربہ بھی شرط میں شامل ہے۔

پروونشل نومینی پروگرام کے ذریعے بھی طبی شعبے کے اہل افراد کے لیے امیگریشن کے راستے موجود ہیں۔ کینیڈا کے کسی صوبے یا علاقے میں ملازمت، تصدیق شدہ جاب آفر یا متعلقہ ادارے کی جانب سے لیٹر آف سپورٹ رکھنے والے امیدوار اس پروگرام کے تحت مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔

جن پاکستانی ڈاکٹروں نے ابھی کینیڈا میں طبی تجربہ حاصل نہیں کیا، وہ بھی اپنی قابلیت اور متعلقہ شرائط کے مطابق مختلف پروگرامز میں درخواست دینے کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ان میں پروونشل نومینی پروگرام، ایکسپریس انٹری، اٹلانٹک امیگریشن پروگرام جبکہ بعض دیہی اور فرانکوفون کمیونٹی امیگریشن پروگرامز شامل ہیں۔

درخواست کے عمل سے پہلے امیدواروں کو اپنی میڈیکل ڈگری اور پیشہ ورانہ اسناد کی تصدیق، متعلقہ امتحانات، زبان کی اہلیت اور صوبائی میڈیکل لائسنسنگ کے تقاضوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق کینیڈا کی مستقل رہائش یا ورک پرمٹ حاصل ہونے سے غیر ملکی ڈاکٹر کو براہِ راست میڈیکل پریکٹس کی اجازت نہیں ملتی۔ اس کے لیے غیر ملکی تعلیمی اسناد کا متعلقہ اداروں سے جائزہ اور صوبائی یا علاقائی میڈیکل ریگولیٹری اتھارٹی سے مطلوبہ لائسنس حاصل کرنا لازمی ہے۔

کینیڈا جانے کے خواہشمند پاکستانی ڈاکٹروں کو امیگریشن اور میڈیکل لائسنسنگ کو دو الگ مراحل سمجھتے ہوئے تیاری کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ جاب آفر، لائسنس یا لیٹر آف سپورٹ دلانے کے دعوے کرنے والے غیر مجاز ایجنٹس سے بھی محتاط رہنا چاہیے اور کسی قسم کی فیس یا رقم ادا کرنے سے پہلے متعلقہ معلومات کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…