اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب کی پانچ اہم میڈیکل یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے بھجوائی گئی سمری پر گورنر پنجاب نے فی الحال دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے وائس چانسلر کے امیدواروں سے براہِ راست ملاقات اور انٹرویوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پانچوں جامعات کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے تین، تین امیدواروں سے گورنر خود انٹرویو کریں گے، جس کے لیے تمام امیدواروں کو پیر کے روز ملاقات کے لیے طلب کرلیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد پانچوں یونیورسٹیوں کے لیے وائس چانسلرز کے پانچ نام تجویز کرکے گورنر ہاؤس کو سمری ارسال کی گئی تھی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب امیدواروں سے ملاقات کیے بغیر سمری کی منظوری نہیں دیں گے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کے مطابق اگر کسی امیدوار کے بارے میں تحفظات پیدا ہوئے تو وہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر اعتراض اٹھانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمری پر فیصلہ کرنے کے لیے انہیں 15 روز کا وقت حاصل ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کے لیے بھی نام تجویز کیے گئے ہیں۔
اسی طرح یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے بھی امیدواروں کے نام سمری میں شامل کیے گئے ہیں۔



















































