اسلام آباد (نیوز ڈیسک) رات کو سوتے وقت کمرے میں روشنی کا موجود ہونا صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
طبی ماہرین گزشتہ کئی برسوں سے مصنوعی روشنی اور مختلف بیماریوں کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ نئی تحقیق میں اس کے دل کی صحت پر اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکا کی Tulane یونیورسٹی سے وابستہ محققین کی تازہ تحقیق کے مطابق رات کے وقت مکمل اندھیرے کے بجائے روشنی میں سونے سے دل کی ساخت اور اس کے معمول کے افعال متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یوکے بائیو بینک سے حاصل کیے گئے 11 ہزار سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
مطالعے میں شریک افراد نے مسلسل سات روز تک کلائی پر لائٹ سینسر پہنے، جس کے ذریعے محققین نے رات کے اوقات میں ان کے اردگرد موجود روشنی کی مقدار کا ریکارڈ حاصل کیا۔ تقریباً تین سال بعد ان افراد کے دلوں کے ایم آر آئی اسکین کیے گئے تاکہ دل کی ساخت اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔
محققین نے بعد ازاں مکمل تاریکی میں سونے والے افراد کا موازنہ مدھم روشنی میں نیند لینے والوں سے کیا۔ نتائج میں سامنے آیا کہ رات کے وقت روشنی میں سونے والے افراد کے دل کے بائیں خانے کی دیوار نسبتاً موٹی جبکہ اس کے اندر موجود گنجائش کم پائی گئی۔
تحقیق کے مطابق ایسے افراد کے دل کے پٹھوں کی لچک بھی متاثر ہوئی، جو اس بات کی علامت سمجھی جاتی ہے کہ دل خون کو مؤثر انداز میں پمپ کرنے کے لیے پہلے کی طرح کام نہیں کر رہا۔ اسی نوعیت کی تبدیلیاں دل کے دائیں خانے میں بھی مشاہدے میں آئیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی ابتدائی تحقیقات میں سے ایک ہے جس میں رات کی روشنی اور دل کی ساخت میں تبدیلی کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق دل میں اس قسم کی تبدیلیاں عموماً طویل عرصے تک رہنے والے دباؤ یا دل کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں پیدا ہوسکتی ہیں، جو مستقبل میں ہارٹ فیلیئر، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے سنگین مسائل کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج یورپین ہارٹ جرنل میں شائع کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل اکتوبر 2025 میں JAMA Network Open میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی رات کے وقت زیادہ روشنی میں سونے اور امراض قلب کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس مطالعے میں 49 سے 69 سال کی عمر کے 5 لاکھ سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا۔
شرکا نے 2013 سے 2022 کے دوران ایک ہفتے تک لائٹ ٹریکرز استعمال کیے، جن کے ذریعے رات ساڑھے 12 بجے سے صبح 6 بجے تک روشنی میں رہنے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ان کی مجموعی صحت کو تقریباً 9 سال تک مانیٹر کیا گیا۔
نتائج کے مطابق زیادہ روشن ماحول میں سونے والے افراد میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 56 فیصد، دل کی شریانوں کے مرض کا امکان 32 فیصد اور فالج کا خطرہ 28 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔ اسی تحقیق میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 47 فیصد جبکہ دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کے عارضے کا امکان 32 فیصد تک بڑھنے کی نشاندہی بھی کی گئی۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے، جبکہ کم عمر افراد میں رات کو زیادہ روشنی میں سونے کا تعلق ہارٹ فیلیئر اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی دیکھا گیا۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ ان تحقیقات سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رات کے وقت روشنی ہی امراض قلب کی وجہ بنتی ہے۔ موجودہ شواہد بنیادی طور پر روشنی اور دل کی بیماریوں کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ سونے کے وقت کمرے کو حتی الامکان تاریک رکھا جائے۔ اگر مکمل اندھیرا ممکن نہ ہو تو تیز روشنی کے بجائے مدھم روشنی استعمال کرنا بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔



















































