اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد: قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے لیے اہم خبر سامنے آگئی ہے،
جہاں بیشتر سیونگ اسکیموں کی شرحِ منافع میں کمی کردی گئی ہے۔ نئی شرحوں کے اطلاق سے ان اسکیموں سے حاصل ہونے والی آمدن پر براہ راست اثر پڑے گا۔
تفصیلات کے مطابق قومی بچت کی جانب سے مختلف سیونگ اسکیموں کی شرحِ منافع میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ زیادہ تر اسکیموں کے منافع میں کمی کی گئی، تاہم ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
نئے فیصلے کے تحت پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع میں 36 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ان اسکیموں کی شرح 12.60 فیصد ہوگئی ہے۔
ریگولر انکم سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح بھی 36 بیسس پوائنٹس کم کردی گئی ہے، جس کے بعد نئی شرح 11.16 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح اسپیشل سیونگ اکاؤنٹ کی شرحِ منافع میں 30 بیسس پوائنٹس کمی ہوئی ہے اور یہ 10.90 فیصد پر آگئی ہے۔
تین ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع 26 بیسس پوائنٹس کم ہونے کے بعد 10.86 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ چھ ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرح میں 28 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی ہے اور نئی شرح بھی 10.86 فیصد ہوگئی ہے۔
دوسری جانب ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے معمولی بہتری سامنے آئی ہے۔ اس اسکیم کی شرحِ منافع میں 11 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی شرح 11.28 فیصد مقرر کردی گئی ہے۔
قومی بچت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ شرحِ منافع میں تبدیلی سے بالخصوص وہ افراد متاثر ہوں گے جو اپنی آمدن کے لیے فکسڈ انکم اور قومی بچت کی مختلف اسکیموں پر انحصار کرتے ہیں۔



















































