اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پر ایک لنک تیزی سے شیئر کیا جا رہا ہے جس میں 2026 کے دوران پاکستانی طلبہ کو مفت لیپ ٹاپ دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم فیکٹ چیک کے مطابق یہ ویب سائٹ جعلی اور فراڈ پر مبنی ہے۔
28 جون کو فیس بک کے ایک پیج سے بھی ایسی پوسٹ شیئر کی گئی، جس میں طلبہ کے لیے مفت لیپ ٹاپ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ویب لنک فراہم کیا گیا۔ ویب سائٹ پر صارفین سے نام، تعلیمی قابلیت اور پسندیدہ لیپ ٹاپ برانڈ سمیت مختلف معلومات درج کرنے کو کہا جاتا ہے۔
فیکٹ چیک کے دوران فرضی معلومات کے ذریعے ویب سائٹ کا فارم مکمل کیا گیا تو اگلے مرحلے میں ایک پیغام سامنے آیا جس میں درخواست منظور ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم اس کے بعد صارف کو ہدایت دی گئی کہ وہ لنک کو متعدد واٹس ایپ رابطوں یا گروپس میں شیئر کرے۔
ماہرین کے مطابق کسی لنک کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے اور صارفین کو مشکوک سرگرمی میں شامل کرنے کا یہ طریقہ آن لائن فراڈ اور فِشنگ اسکیمز میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اس ویب سائٹ سے متعلق پاکستان کے علاوہ سری لنکا اور نائجیریا میں بھی پہلے فیکٹ چیک کیے جاچکے ہیں، جہاں اسے فراڈ قرار دیا گیا۔ فیس بک نے بھی اس حوالے سے شیئر کی گئی پوسٹ کو غلط معلومات کے زمرے میں شامل کیا ہے۔
دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے بھی وائرل ویب سائٹ کے لنک کا جائزہ لیا۔ ایجنسی کے ترجمان کے مطابق ویب سائٹ میں ایسی متعدد علامات موجود ہیں جو عموماً آن لائن فِشنگ اسکیمز سے منسلک ہوتی ہیں۔
این سی سی آئی اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ ویب سائٹس پر اپنی ذاتی، مالی یا دیگر حساس معلومات درج کرنے سے گریز کریں۔
فیصلہ: طلبہ کو مفت لیپ ٹاپ دینے والی یہ ویب سائٹ کسی مستند حکومتی یا حقیقی اسکیم کا حصہ نہیں بلکہ صارفین کی معلومات حاصل کرنے اور لنک کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے جعلی پیشکش کا استعمال کر رہی ہے۔



















































