اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گھروں میں چوہوں اور کاکروچ کی موجودگی ایک عام مسئلہ ہے، خاص طور پر کچن، سنک کے نیچے، الماریوں اور دیگر اندھیری جگہوں پر یہ آسانی سے چھپ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ گھر میں بسیرا کرلیں تو ان سے مکمل طور پر جان چھڑانا بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔
مارکیٹ میں ان حشرات اور چوہوں کو دور کرنے کے لیے مختلف مصنوعات دستیاب ہیں، تاہم کچھ لوگ گھریلو طریقے بھی آزماتے ہیں۔ انہی میں ایک طریقہ کھیرے، بیکنگ سوڈا، آٹے اور چینی کے استعمال پر مبنی ہے۔
گھریلو پاؤڈر بنانے کا طریقہ
اس نسخے کے لیے آدھی آدھی پیالی بیکنگ سوڈا، آٹا اور پسی ہوئی چینی لے کر تینوں اجزا کو اچھی طرح ملا لیا جاتا ہے۔ اس طرح چند منٹ میں آمیزہ تیار ہوجاتا ہے۔
بعد ازاں ایک کھیرے کو موٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ان پر تیار شدہ پاؤڈر چھڑک دیا جاتا ہے۔ ان ٹکڑوں کو گھر یا کچن کے ان مقامات پر رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جہاں چوہوں یا کاکروچ کی موجودگی زیادہ ہو۔
تاہم اس گھریلو طریقے کے مؤثر ہونے کے دعوے کو حتمی یا سائنسی طور پر ثابت شدہ حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس لیے صرف ایسے ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے گھر کی صفائی اور احتیاطی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
گھر کو چوہوں اور کاکروچ سے محفوظ کیسے رکھا جائے؟
ماہرین کے مطابق کھانے کے ذرات کو کھلا نہ چھوڑنا، کچرے کو ڈھکن والے ڈبے میں رکھنا، پانی کے اخراج یا رساؤ کو فوری طور پر درست کرنا اور دیواروں، فرش یا دروازوں میں موجود سوراخوں کو بند کرنا زیادہ مؤثر احتیاطی اقدامات ہیں۔
اگر گھر میں چوہوں یا کاکروچ کی تعداد بڑھ جائے اور مسئلہ قابو میں نہ آرہا ہو تو پیشہ ورانہ پیسٹ کنٹرول سروس سے مدد لینا بہتر رہتا ہے۔ ایسے کسی بھی پاؤڈر یا آمیزے کو بچوں اور پالتو جانوروں کی پہنچ سے دور رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔



















































