جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

این ڈی ایم اے کا آئندہ2سے3 روز کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

datetime 4  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر کا آئندہ2سے3 روز کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا

جس کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران تیز ہواں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے۔ ۔ جمعرات کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان میں کہاگیاکہ بالائی علاقوں میں بارش کے باعث دریاں، ندی نالوں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہا میں اضافے کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، سکردو، شگر اور دیگر حساس علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال متوقع ہے۔

آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کے حساس علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔خیبر پختونخوامیں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور دیگر علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال جبکہ نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال، نشیبی علاقے اوررابطہ سڑکیں زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ این ای او سی کے مطابق آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، توچی، جہلم، چناب اور راوی کے بہا میں اضافے جبکہ دریائے سندھ، راوی، چناب اور کابل کے مختلف مقامات اور ملحقہ ندی نالوں کے بہا میں بھی اضافے کے امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ممکنہ بارش کے نتیجے میں نالہ لئی میں پانی کے شدید بہا کا امکان ہے اور نشیبی علاقوں میں متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ شدید بارش کے دوران شہری علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال جبکہ پہاڑی علاقوں میں بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ عوام نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔این ڈی ایم اے نے عوام کو موسمی صورتحال، ابتدائی انتباہات اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سے باخبر رہنے کی ہدایت کی ہے۔این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے، مقامی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے اور شہریوں کو موسمی صورتحال سے باخبر رہنے کی بھی ہدایت کی ہے۔عوام تازہ ترین معلومات اور الرٹس کے لئے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے استفادہ کریں۔مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہا کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں۔سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اوردریا کے کناروں سے دور رہیں۔مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔

اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔سیلابی پانی یا تیز بہا کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں۔ یاد رکھیں، تیز بہا والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے۔مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہا میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہا والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے مسلسل اور بروقت معلومات اور الرٹس کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپپاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹسے بروقت معلومات حاصل کریں۔ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال میں مدد کے لیے 911ڈائل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…