اسلام آباد ( نیوز ڈیسک)روزمرہ زندگی میں طویل وقت تک مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے
اور اس کے اثرات توقع سے کہیں زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ دن کا بڑا حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں اور جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہوتے، ان میں مختلف اقسام کے کینسر سے موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
گلاسگو یونیورسٹی کے محققین نے اس تحقیق کے لیے 91 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ یہ معلومات یوکے بائیو بینک سے حاصل کی گئی تھیں، جہاں شرکا کی ایک ہفتے کی جسمانی سرگرمیوں کو ایکٹیویٹی مانیٹر کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا تھا۔
محققین نے بعد ازاں شرکا کی صحت کی اوسطاً 12.38 سال تک نگرانی کی اور انہیں ان کے روزانہ بیٹھنے کے دورانیے اور جسمانی سرگرمی کی سطح کے مطابق مختلف گروپس میں تقسیم کیا۔
نتائج کے مطابق مسلسل زیادہ دیر تک بیٹھنے اور بہت کم حرکت کرنے والے افراد میں مختلف اقسام کے کینسر سے موت کا امکان تقریباً 9 فیصد زیادہ پایا گیا۔ ایسے افراد میں موٹاپے سے منسلک بعض کینسرز کا خطرہ بھی بڑھا ہوا دیکھا گیا، جن میں غذائی نالی، جگر، گردے، لبلبے، چھاتی، آنتوں اور تھائی رائیڈ کے کینسر شامل ہیں۔
تحقیق میں ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا۔ اگر بیٹھنے کے دوران وقفے وقفے سے کھڑا ہونے، چلنے یا معمولی حرکت کرنے کی عادت اپنائی جائے تو کینسر کے باعث موت کے خطرے میں تقریباً 12 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزمرہ معمولات میں معمولی نوعیت کی جسمانی سرگرمیوں کو شامل کرنا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ اگرچہ معتدل یا زیادہ شدت والی ورزش بیماریوں سے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے، تاہم ہلکی پھلکی حرکت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اس سے قبل ہونے والی متعدد تحقیقات میں بھی زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کو مختلف صحت کے مسائل سے جوڑا جاچکا ہے۔ موجودہ تحقیق کے نتائج بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ تحقیق کی کچھ حدود بھی ہیں اور اس کے ذریعے بیٹھے رہنے اور کینسر سے موت کے درمیان براہ راست سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت نہیں کیا جاسکا۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پلوس میڈیسن میں شائع کیے گئے ہیں۔



















































