اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) سائنس و ٹیکنالوجی (نیوز ڈیسک) زلزلوں، عمارتوں کے ملبے اور دیگر ہنگامی حالات میں پھنسے افراد تک فوری امداد پہنچانے کے لیے سائنسدانوں نے ایک منفرد ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ آسٹریلیا کے محققین نے ایسے سائبرگ کاکروچ تیار کیے ہیں جنہیں مستقبل میں ریسکیو کارروائیوں کے دوران استعمال کیا جاسکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سے وابستہ ماہرین نے ایک مشترکہ تحقیق کے ذریعے بڑے جسامت والے کاکروچ کو جدید آلات سے منسلک کیا۔ اس منصوبے کا مقصد ایسے روبوٹک کیڑوں کی تیاری ہے جو دشوار گزار اور تنگ مقامات تک پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں مدد دے سکیں۔
محققین نے کاکروچ کی پشت پر انتہائی چھوٹے آلات پر مشتمل ایک بیک پیک نصب کیا، جس میں کیمرے اور منی ایچر انجیکشن ڈیوائسز شامل ہیں۔ مستقبل میں اس نظام کو ملبے کے نیچے پھنسے افراد تک بنیادی طبی امداد یا ضروری ادویات پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اس تحقیق کے لیے شمالی کوئنزلینڈ میں پائے جانے والے دیوہیکل بروئنگ کاکروچ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ کاکروچ دنیا کی بھاری ترین اقسام میں شمار ہوتا ہے اور اس کی لمبائی تقریباً ساڑھے آٹھ سینٹی میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جس کی وجہ سے اس پر چھوٹے الیکٹرانک آلات نصب کرنا نسبتاً ممکن ہے۔
تحقیق کے مطابق زلزلے یا عمارت منہدم ہونے کی صورت میں کئی مرتبہ ملبے کے اندر ایسے انتہائی تنگ راستے موجود ہوتے ہیں جہاں انسان یا روایتی امدادی آلات فوری طور پر نہیں پہنچ پاتے۔ سائبرگ کاکروچ ان جگہوں میں داخل ہوکر صورتحال کی معلومات فراہم کرنے اور مستقبل میں مخصوص طبی امداد پہنچانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے ’ایڈوانسڈ سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے ایک شریک مصنف کے مطابق اگرچہ بہت سے افراد کے لیے کاکروچ کا قریب آنا ناگوار ہوسکتا ہے، لیکن کسی ملبے یا غار میں پھنسے شخص تک مدد پہنچانے کی صورت میں یہی کیڑا انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ سائبرگ کیڑوں پر اس سے قبل ہونے والے تجربات زیادہ تر لاپتا یا پھنسے ہوئے افراد کی تلاش اور ان کے مقام کا سراغ لگانے تک محدود رہے ہیں۔ نئی تحقیق میں اس تصور کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کیڑوں کو طبی امداد پہنچانے کی ممکنہ صلاحیت سے بھی جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اگر یہ ٹیکنالوجی مزید تجربات میں کامیاب ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں قدرتی آفات کے دوران ریسکیو ٹیموں کے لیے یہ ایک اضافی اور غیر معمولی ذریعہ بن سکتی ہے، بالخصوص ان مقامات پر جہاں روایتی امدادی نظام کی رسائی مشکل ہو۔



















































