بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پمزہسپتال آتشزدگی واقعہ میں نومولود بچوں کی اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟حامد میر نے نام لیکر بتا دیا

datetime 26  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے کی ذمہ داری وفاقی حکومت، اسلام آباد انتظامیہ، چیف کمشنر اور متعلقہ محکمہ صحت پر عائد ہوتی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق حامد میر نے کہا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو ایک بڑے طبی ادارے کا درجہ حاصل ہے، تاہم اسپتال کی زمینی صورتحال اس معیار سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کے باہر لان میں بھی مریضوں کو درختوں کے نیچے علاج کے انتظار میں دیکھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پمز میں غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کو داخل کرانے یا بیڈ حاصل کرنے کے لیے بھی بعض اوقات اعلیٰ حکام سے سفارش کروانا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق ادویات کے حوالے سے بھی مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور بعض اوقات انہیں مخصوص میڈیکل اسٹورز سے ادویات خریدنے کا کہا جاتا ہے۔

نومولود وارڈ میں حفاظتی انتظامات پر سوالات

حامد میر نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے حکومتی وزرا پمز کو ملک کے جدید ترین اسپتالوں میں شمار کرتے ہوئے یہاں موجود سہولیات کی تعریف کر رہے تھے، لیکن نومولود بچوں کے وارڈ میں پیش آنے والے سانحے نے ان دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

ان کے مطابق آگ لگنے کے بعد بچوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کے لیے مناسب ہنگامی راستہ یا مطلوبہ سہولیات موجود نہیں تھیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس شعبے کو انتہائی نگہداشت کا وارڈ کہا جاتا ہے، وہاں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے بنیادی انتظامات ناکافی کیوں تھے۔

بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایات کا دعویٰ

سینئر صحافی نے بتایا کہ جس یونٹ میں آگ لگی، وہاں ماضی میں خدمات انجام دینے والے ایک ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ یونٹ کی سربراہی کے دوران کئی مرتبہ تحریری طور پر حکام کو بنیادی سہولیات کی کمی سے آگاہ کیا گیا تھا۔

حامد میر کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایک یونٹ تک محدود نہیں بلکہ پمز کے دیگر شعبوں میں بھی سہولیات کے حوالے سے شکایات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام مریضوں کے شعبوں کے مقابلے میں نجی، خصوصی اور وی آئی پی کمروں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پمز میں زیر علاج وی آئی پی مریضوں کے لیے بعض اوقات دیگر اسپتالوں سے ڈاکٹرز کو بلایا جاتا ہے، جس سے یہاں کے طبی عملے پر اعتماد کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

وزیر صحت سے اپنی وزارت کے اداروں کا جائزہ لینے کا مطالبہ

حامد میر نے وفاقی وزیر صحت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں کے طبی مسائل پر تنقید کے ساتھ اپنی وزارت کے ماتحت اداروں کی صورتحال پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

ان کے مطابق پمز میں اس نوعیت کا یہ پہلا ناخوشگوار واقعہ نہیں، ماضی میں بھی مختلف واقعات رونما ہوچکے ہیں، تاہم ان میں سے کئی زیادہ نمایاں نہیں ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سانحے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے باعث معاملہ زیادہ توجہ حاصل کر گیا ہے۔

میڈیا سے پمز کے دیگر شعبوں کا بھی جائزہ لینے کی اپیل

حامد میر نے کہا کہ میڈیا کو صرف اس یونٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے جہاں آتشزدگی ہوئی بلکہ پمز کے دیگر شعبوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے تاکہ اسپتال میں موجود سہولیات اور مسائل کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔

انہوں نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں مقامی حکومت اور منتخب میئر کا مؤثر نظام موجود نہیں، جس کے باعث شہری معاملات میں بھی مسائل سامنے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزرا سانحے پر افسوس کا اظہار تو کر رہے ہیں لیکن اصل ضرورت ذمہ داری قبول کرنے اور حقائق سامنے لانے کی ہے۔ حامد میر نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور معاملے کو محض بیانات تک محدود نہ رکھا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…