اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر والدین نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق جاں بحق بچوں کے والدین غم سے نڈھال ہیں اور انہوں نے بچوں کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ والدین نے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں نہ گائنی ڈاکٹر موجود تھیں اور نہ ہی دیگر ضروری طبی عملہ موجود تھا۔ والدین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ این آئی سی یو کا دروازہ بند تھا جس کے باعث امدادی کارروائی میں مشکلات پیش آئیں۔
والدین کے مطابق ریسکیو ٹیمیں مبینہ طور پر واقعے کے تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچیں، جبکہ پولیس بھی کئی گھنٹوں بعد موقع پر پہنچی۔
متاثرہ والدین نے مزید الزام عائد کیا کہ آگ بھڑکنے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں بھی متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
کتنی اندوہناک اور دردنگ گفتگو ہے اس ماں کی ۔۔۔ پمز اور ریسکیو آپریشن کے خلاف بھی بہت بڑی چارج شیٹ ہے افسوس صد افسوس pic.twitter.com/V30EcCCDOv
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) August 26, 2026



















































