اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے شعبہ امراض قلب میں سی ٹی انجیوگرافی (CTA) کی سہولت دستیاب نہ ہونے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا یہ ٹیسٹ نہ کیے جانے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے۔
کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے، جبکہ سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز کے بریگیڈیئر ریٹائرڈ ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی کے سی ٹی انجیوگرافی ٹیکنیشن عمر فاروق کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی اس امر کی بھی جانچ کرے گی کہ 2022 سے پمز میں سی ٹی انجیوگرافی کی سہولت موجود تھی یا نہیں۔ اگر یہ سہولت دستیاب تھی تو مشین، متعلقہ سافٹ ویئر اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی سمیت دیگر ضروری انتظامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی 2022 سے اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی انجیوگرافی ٹیسٹوں کا ریکارڈ بھی حاصل کرے گی، جس میں ٹیسٹوں کی تعداد، تاریخ اور نوعیت شامل ہوگی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کو جمعہ کی صبح طبی معائنے کے لیے پمز لایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے سی ٹی انجیوگرافی تجویز کی، تاہم شعبہ امراض قلب میں موجود سہولت فعال نہ ہونے کے باعث یہ ٹیسٹ نہیں ہوسکا۔ بعد ازاں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
پمز کے بعض سینئر ڈاکٹروں کے مطابق ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں موجود سی ٹی انجیوگرافی مشین فعال حالت میں تھی۔ ایک سینئر ڈاکٹر کے مطابق عمران خان کے علاج پر مامور طبی ٹیم کو اس سہولت کے بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی مشین مارچ 2022 سے کام کررہی ہے، جبکہ کارڈیالوجی سینٹر میں نصب مشین طویل عرصے سے خراب ہے۔ عام طور پر سی ٹی انجیوگرافی ریڈیالوجسٹ کی نگرانی میں کی جاتی ہے، تاہم عمران خان کو ریڈیالوجی شعبے میں ٹیسٹ کے لیے ریفر نہیں کیا گیا۔
انکوائری کمیٹی کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان رابطے، مریضوں کو دوسرے شعبے میں منتقل کرنے کے طریقہ کار اور اس حوالے سے موجود نظام کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ پمز کے مریضوں کو معمول کے مطابق سی ٹی انجیوگرافی کے لیے نجی مراکز بھیجا جاتا رہا ہے یا نہیں۔
تحقیقاتی ٹیم اس بات کی بھی جانچ کرے گی کہ اگر مریضوں کو نجی طبی مراکز بھیجا جاتا تھا تو کسی مخصوص ادارے کو ترجیح دی گئی یا نہیں، جبکہ سرکاری اسپتال سے نجی مراکز کی طرف منتقل ہونے والے طبی کام کی مجموعی صورتحال بھی رپورٹ کا حصہ بنائی جائے گی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق احکامات جاری کیے گئے تھے۔ حکومت نے ان احکامات کے خلاف نظرثانی درخواست بھی دائر کی تھی۔ بعد ازاں عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا، جہاں حکومتی مؤقف کے مطابق ماہر ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کرکے انہیں فٹ قرار دیا تھا۔



















































