منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دو ملزمان کی پھانسی ٹل گئی، دو کو سزائے موت

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

لاہور۔۔۔۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں نے دو ملزمان کے ڈیتھ وارنٹ منسوخ کردیے ہیں جبکہ دو کو سزائے موت سنائی ہے۔لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت پانے والے دو قیدیوں کے ڈیتھ وارنٹ منسوخ کر دیے ہیں۔
عدالت نے یہ حکم دو قیدیوں محمد فیض اور محمد شریف کے اہل خانہ کی درخواستوں پر دیا ہے۔
محمد فیض اور محمد شریف کو 14جنوری کو فیصل آباد جیل میں پھانسی دی جانی تھی۔ دونوں قیدیوں پر لانس نائیک اور حوالدار کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قیدیوں کی سزا کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باعث ڈیتھ وارنٹ منسوخ کیے ہیں۔
عدالت کو قیدیوں کے اہل خانہ کی طرف سے بتایا گیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ فیصل آباد نے حقائق چھپا کر ڈیتھ وارنٹ حاصل کیے ہیں اور عدالت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں قیدیوں کی اپیلیں اعلیٰ عدالت میں زیر سماعت ہیں۔دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے قیدی محمد فیض کے ڈیتھ وارنٹ پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے رو برو محمد فیض کی درخواست کی سماعت کے دوران جیل سپرنٹنڈ نٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جیل سپرنٹنڈنٹ کی سرزنش کی اور کہا کہ جب تک تمام اپیلیں مسترد نہ ہو جائیں تب تک ڈیتھ وارنٹ حاصل نہیں کیے جا سکتے۔دوسری جانب لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پولیس کے افسر کو قتل کرنے کے الزام میں دو ملزمان کو موت کی سزا سنا دی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو دو دو مرتبہ پھانسی دی جائے۔ملزمان اکبر علی اور منصب علی پر الزام ہے کہ انھوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) محمد سرور کو قصور کے علاقے میں قتل کر دیا تھا۔پولیس نے ملزمان کے خلاف 2013 میں چالان عدالت میں پیش کیا تھا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو دو دو لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…