منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

جرمنی ميں پناہ گزينوں کی رہائش گاہوں پر سينکڑوں حملے

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

برلن(نیوزڈیسک)خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمن پوليس کے اعداد و شمار کے مطابق سال رواں کے آغاز سے سولہ نومبر تک ايسے واقعات کی تعداد 715 ہے۔ گزشتہ سال کے دوران پناہ گزينوں کے خلاف ايسے حملوں کی کُل تعداد 199 تھی۔تارکين وطن کے خلاف وارداتوں کی تعداد ميں واضح اضافہ اِس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ يورپ کی سب سے بڑی معيشت کے حامل ملک ميں مہاجرين کی بڑی تعداد ميں مسلسل آمد کے نتيجے ميں يہاں ’مہاجرين مخالف‘ جذبات بھی بڑھ رہے ہيں۔ اندازوں کے مطابق رواں سال کے اختتام تک شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور چند شمالی افريقی ممالک سے سياسی پناہ کے ليے جرمنی آنے والوں کے تعداد قريب ايک ملين تک پہنچ سکتی ہے۔جرمن حکام کے مطابق تحقيقات ميں سامنے آيا ہے کہ پناہ گزينوں کی رہائش گاہوں پر حملوں ميں س640 کيسز ميں دائيں بازو کی ترجيحات کے حامل افراد يا گروپوں کا عمل دخل ہے جب کہ 75 وارداتوں ميں تاحال مقاصد کا تعين نہيں کيا جا سکا۔ 56 وارداتوں ميں مہاجرین کی عارضی رہائش گاہوں کو نذر آتش کيا گيا جب کہ آٹھ کيسز ميں ایسا کرنے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ برس پناہ گزينوں سے متعلق کیمپوں کو نذر آتش کرنے کے کُل چھ واقعات رپورٹ کيے گئے تھے۔ جنوری 2015ء ميں يوميہ بنيادوں پر ايسے واقعات کی اوسط تعداد ايک تھی، جو نومبر ميں تين ہے، يعنی ہر روز تين ايسے واقعات رونما ہوتے ہيں۔جرمن حکام کے مطابق انتہائی دائيں بازو کے گروپ سوشل ميڈيا پر مہم چلاتے ہوئے پناہ گزينوں کے حوالے سے خوف پھيلانے کو کوشش کر رہے ہيں۔ ان کے بقول متعدد حملے انٹرنيٹ پر جاری ايسی ہی مہمات کا نتيجہ ہو سکتے ہيں۔ حکام نے اس بارے ميں مزيد وضاحت کے ليے بتايا ہے کہ ايسی وارداتوں ميں ملوث ہونے کے شبے ميں زير حراست ليے جانے والے دو تہائی ملزمان پہلے سے جرمن پوليس کی نظروں ميں تھے، جو انتہا پسندوں کی کڑی نگرانی کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…