جینیوا(نیوز ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت دنیا بھر میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جبکہ اس حوالے سے بڑے پیمانے پر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جس سے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہے۔یہ مزاحمت اس وقت جنم لیتی ہے جب جراثیم (بگس) پرانی ادویات کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرلیتے ہیں جس کے باعث عام بیماریاں اور انفکشنز بھی جان لیوا بن جاتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ عمل قدرتی طور پر بھی ہوتا ہے تاہم ان ادویات کا بےجا استعمال مزاحمت کے اس عمل کو تیز کردیتی ہے۔عالمی ادارے کے مطابق اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جس سے پیچیدگیاں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ڈبلیو ایچ او سربراہ مارگرٹ چن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت صحت کا ایک عالمی بحران ہے، متعدد حکومتیں اب اسے ایک بڑے مسئلے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ہسپتال اور انتہائی نگہداشت یونٹس ‘سپر بگس’ کے مسئلے سے دوچار ہیں جبکہ ہم اب اینٹی بائیوٹکس کے بعد کی دہائی کی طرف جارہے ہیں جہاں عام بیماریاں ایک مرتبہ پھر جان لیوا بن جائیں گی۔اینٹی بائیوٹکس قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں جبکہ کینسر کے مریض یا کسی سرجری سے گزرنے والے مریضوں پر انہیں عام استعمال کی جاتا ہے تاہم مارگریٹ کا کہنا تھا کہ اگر اس مزاحمت کے خلاف کچھ نہ کیا گیا تو جدید طریقہ علاج کا خاتمہ ہوجائے گا۔12 ممالک میں کیے گئے ڈبلیو ایچ او کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ دو تہائی (64 فیصد) افراد اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اینٹی بائیوٹکس کو نزلہ اور زکام کے خلاف استعمال کیا جاسکتا حالانکہ درحقیقت ان کا وائرسس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔باربیڈوس، مصر، چین، ہندوستان، انڈونیشیا، میکسیکو، نائجیریا، روس، سربیا، جنوبی افریقہ، سوڈان اور ویتنام میں کیے گئے سروے میں 66 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ اینٹی بائیوٹکس مزاحمت سے لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں۔جبکہ تقریباً نصف کا خیال تھا کہ یہ مسئلہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اینٹی بائیوٹکس کا استعمال باقاعدگی سے کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کسی بھی عمر، کہیں بھی اور کسی کو بھی ہوسکتی ہے۔سروے میں ایک تہائی کا خیال تھا کہ طبیعت بہتر ہونے کے بعد اینٹی بائیوٹکس کا استعمال روک دینا چاہیے اور کورس کو مکمل کرنے کی ضرورت نہیں۔مارگریٹ کے مطابق یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے کیوں کہ علاج کو مکمل نہ کرنے سے مزاحمت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ مریض کا علاج بھی متاثر ہوتا ہے۔مارگریٹ نے کہا کہ کورس کو درمیان میں کبھی نہ روکیں اور اسے لازماً مکمل کریں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کا استعمال صرف اسی صورت میں کیا جائے جبکہ انہوں نے ڈاکٹروں پر بھی زور دیا کہ وہ اینٹی بائیوٹکس دینے میں احتیاط برتیں اور اسے ایک ‘قیمتی شے’ کے طور پر دیکھا جائے۔
عام بیماریاں ایک مرتبہ پھر جان لیوا بن جائیں گی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
پاکستان میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتیں، آج کے تازہ نرخ
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے
-
توشہ خانہ کا جولائی تا ستمبر 2026 کا ریکارڈ جاری، اہم نام سامنے آگئے
-
گورنر راج میں حصہ اور گورنرشپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں، محسن نقوی
-
جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
گلشن حدید میں ایک گھر سے 5 لاشیں ملنے کا کیس، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی
-
سلمان خان کے بیڈروم میں نادیدہ وجود، پراسرار واقعات کا انکشاف



















































