اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

بیلجیئم میں شدت پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بیلجیئم ایک کروڑ 10 لاکھ نفوس پر مشتمل ترقی یافتہ ملک ہے اور اس ملک کے حوالے سے شاید ہی کبھی شہ سرخیاں لگی ہوں مگر اب یہ یورپ میں جہادیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ پیرس حملوں کے فوری بعد دہشتگردوں کا برسلز سے تعلق واضح ہوگیا اور بیلجیئم کے مولین بیک ڈسٹرکٹ سے 7 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اب بتایا جا رہا ہے پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ مراکش نڑاد عبدالحامد عود ہے۔یورپ کے وسط میں ہونے کے باوجود بیلجیئم میں شدت پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں ہے کیونکہ شمالی افریقہ سے تارکین وطن کی آمد، نفرت پھیلانے والے مبلغین، بغد علاقوں میں غربت سمیت بہت سے عوامل نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے وہاں شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔ 1970 کی دہائی میں سعودی عرب کو مراکشی تارکین وطن کو تبلیغ کے لئے مبلغ بھیجنے کی اجازت دینا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ برسلز کی سب سے بڑی مسجد اب بھی سعودی شاہی خاندان کی ملکیت ہے مگر اب تازہ ترین حالات میں شام کے بحران نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیلجیئم کے پولیس کمشنر کے مطابق بیلجیئم کے 474 شہری شام گئے، 130 افراد واپس آچکے جبکہ 77 مارے گئے ہیں اور 200 کے قریب افراد اب بھی وہاں پر ہیں۔ برسلز میں واقع تھنک ٹینک کے فیلو بلال کا کہنا ہے ک مولن بیک ڈسٹرکٹ میں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے اور یہ علاقہ قدرے پسماندہ بھی ہے، اس وجہ سے یہاں زیادہ شدت پسند ہیں، اس کے علاوہ بیلجیئم کے مسلمان احساس محرومی کا بھی شکار ہیں، ان کا خیال ہے انہیں قومی دھارے میں آنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، اس لئے شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…