جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پیرس دھماکے ،فرانسیسی خواتین کی جان بچانے والے مسلمان کوشہریت دینے کااعلان

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
PARIS, FRANCE - JANUARY 08: Flowers are left close to the Charlie Hebdo offices on a day of mourning following a terrorist attack at the satirical newspaper building on January 8, 2015 in Paris, France. Twelve people were killed including two police officers as two gunmen opened fire at the offices of the French satirical publication Charlie Hebdo on January 7. (Photo by Marc Piasecki/Getty Images)

پیرس(نیوز ڈیسک )فرانسیسی حکومت نے پیرس میں مقیم مسلمان شہری کو حملوں کے دوران دو فرانسیسی خواتین کی جان بچانے پر فرانس کی شہریت دینے کا اعلان کر دیاہے۔تفصیلات کے مطابق مسلمان شہری سیفر کیسا نوسترا رکا تعلق الجیریا سے ہے ،انہوں نے فرانسیسی حکومت سے شہریت کے لیے رجوع کیا ہوا تھا لیکن تاحال انہیں شہریت نہیں دی گئی تھی لیکن دو روز قبل ہونے والے پیرس حملوں میں مسلمان شہری نے جب خواتین کو زخمی دیکھا اور اس نے استعداد کے مطابق کوشش کرتے ہوئے دو خواتین کی جان بچانے میں کامیا ب رہا جس پر فرانسیسی حکومت نے اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے شہریت دینے کا اعلان کر دیاہے۔واضح رہے کہ فرانس میں جمعے کی شب جب فائرنگ شروع ہوئی تو مسلم شہری سیفر کیسا نوسترا ریسٹورنٹ میں کاونٹر کے پیچھے اپنے کام میں مشغول تھا اسکا کہنا ہے کہ ہم نے بڑے دھماکوں کی آواز سنی سب نے زور زور سے چیخنا شروع کردیا۔ شیشے ٹوٹ کر ہمارے اوپر آ گرے۔ یہ بہت دہشت ناک تھا،ہم نے دیکھا کہ باہر ٹیرس پر دو خواتین کو گولی لگی ہے ایک کو کلائی پر دوسرے کو کندھے پر۔ ان کے زخموں سے بہت خون بہہ رہا تھا۔خطرے کے باوجود سیفر کو یہ محسوس ہوا کہ اسے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ اس نے فائرنگ میں کمی کا انتظار کیا اور پھر وہ دوڑ کر ان زخمی خواتین کے پاس پہنچا۔اس نے بتایا کہ میں نے انھیں اٹھایا اور انھیں لے کر تہہ خانے کی جانب بھاگا۔ میں ان کے ساتھ رہا اور خون کو روکنے کی کوشش کرتا رہا۔تہہ خانے سے ہم لوگ گولیوں کی آوازیں سنتے رہے۔ جب ہم باہر نکلے تو ہم نے سڑکوں پر لاشیں دیکھیں۔ بہت سے لوگ زخمی تھے۔ کاسا نوسترا 11 ویں مشرقی ضلعے میں ہے جہاں مسلمانوں کی مخلوط آبادی رہتی ہے۔سیفر مسلمانوں کے اسی علاقے میں رہتا ہے ان کا تعلق الجیریا سے ہے لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ ان حملوں کا مقصد کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…