اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

زین قتل کیس ، ملزمان طاقتور، اکیلی مقدمہ نہیں لڑسکتی،والدہ

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)زین قتل کیس ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران زین کی والدہ اور بہنوں نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔زین کی والدہ نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ بیٹا مرگیا اللہ کی رضا ہے، اس لیے برداشت کیامیں اکیلی مقدمہ نہیں لڑ سکتی، ملزمان بہت طاقتور ہیںٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیا۔ بنچ کے سربراہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے زین کی والدہ سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں ماموں کو مدعی آپ نے بنایا تھا یا وہ خود بنے ؟ زین کی والدہ نے موقف اپنایا کہ میں نے مدعی نہیں بنایا بھائی خود کیس میں فریق بن گئے۔ جسٹس امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کوئی ملزم ہے توا سے کٹہرے میں لانا ریاست کا کام ہے ،جس جج نے فیصلہ دیا اس نے بظاہر زیادتی کی، ذیلی عدالت میں مقدمے سے لگتا ہے انصاف نہیں ہوا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے زین کی والدہ سے آپ کو مقدمہ لڑنے کی ضرورت نہیں یہ سرکار کاکام ہے کوئی پولیس اہلکار آپ کو تنگ نہیں کرے گا، آپ کے ساتھ انصاف کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔یاد رہے کہ زین کو لاہور میں رواں سال کے شروع میں سابق وفاقی وزیر کے بیٹے مصطفی کانجو اوراس کے ساتھیوں نے قتل کردیا تھا جس کا مقدمہ مقامی عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ کئی مہینے کی مسلسل سماعت کے دوران مدعی اور عینی شاہدین اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے تھے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے ازخود نوٹس لے کر بنچ تشکیل دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…