منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

مرحوم سعودی بادشاہ عبداللہ کی وہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی ، سوشل میڈیاپر ہنگامہ

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ریاض(آئی این پی )سعودی عرب کے آنجہانی فرماں روا شاہ عبداللہ نے اپنی وفات سے قبل ایک پیش گوئی کی تھی اور اہل مغرب کو بارہا متنبہ کیا تھا کہ دہشت گردی کا جو الا ایشیااور مشرق وسطی میں بھڑک رہا ہے اس کے انسداد کے لیے جلد اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آگ یورپ تک جا پہنچے گی، مگر اس وقت مغربی ممالک نے ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرا، اب فرانس خون کی ہولی کھیلے جانے کے بعد ان کی پیش گوئی سچ ثابت ہونے پر سوشل میڈیا پر انہیں اور ان کی باتوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔مےڈےا رپورٹس کے مطابق شاہ عبداللہ نے ایک تقریب میں دنیا بھر کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تمام سفیروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ممالک کی حکومتوں کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ دہشت گردی کے ناسور سے صرف طاقت سے ہی نمٹا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی جلد از جلد ہونی چاہیے۔بدقسمتی سے آپ میں اکثر سفیروں کے ممالک نے دہشت گردی کے خلاف کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جو انسانیت کے لیے خطرناک طرزِعمل ہے۔آپ سب دیکھ رہے ہو کہ کس طرح لوگوں کے سر قلم کیے جا رہے ہیں اور کس طرح بچوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کٹے ہوئے سروں کو لے کر گلیوں میں چلیں۔اللہ تعالی نے کسی ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیا ہے مگر دہشت گرد دن رات لوگوں کو ناحق قتل کر رہے ہیں اور آپ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور مستقبل میں کیا کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ اگر دہشت گردوں نظرانداز کیا گیا تو وہ ایک مہینے میں یورپ تک پہنچ جائیں گے۔ اور یورپ پہنچنے کے ایک ماہ بعد وہ امریکہ پہنچ چکے ہوں گے۔اب سوشل میڈیا پر عرب شہری اور حکومتی عمال شاہ عبداللہ کی ان نصیحت آموز باتوں کو یاد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔گلف کوآپریشن کونسل کے رکن ممالک کے حکومتی عہدیداروں نے اپنے ہم منصب فرانسیسی عہدیداروں کو اس سانحے پر تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔ دوسری طرف عرب شہری سوشل میڈیا پر واقعے کی تصاویر شیئرکرکے اپنے دکھ اور رنج کا اظہار کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…