جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مرحوم سعودی بادشاہ عبداللہ کی وہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی ، سوشل میڈیاپر ہنگامہ

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ریاض(آئی این پی )سعودی عرب کے آنجہانی فرماں روا شاہ عبداللہ نے اپنی وفات سے قبل ایک پیش گوئی کی تھی اور اہل مغرب کو بارہا متنبہ کیا تھا کہ دہشت گردی کا جو الا ایشیااور مشرق وسطی میں بھڑک رہا ہے اس کے انسداد کے لیے جلد اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آگ یورپ تک جا پہنچے گی، مگر اس وقت مغربی ممالک نے ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرا، اب فرانس خون کی ہولی کھیلے جانے کے بعد ان کی پیش گوئی سچ ثابت ہونے پر سوشل میڈیا پر انہیں اور ان کی باتوں کو یاد کیا جا رہا ہے۔مےڈےا رپورٹس کے مطابق شاہ عبداللہ نے ایک تقریب میں دنیا بھر کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تمام سفیروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ممالک کی حکومتوں کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ دہشت گردی کے ناسور سے صرف طاقت سے ہی نمٹا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی جلد از جلد ہونی چاہیے۔بدقسمتی سے آپ میں اکثر سفیروں کے ممالک نے دہشت گردی کے خلاف کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جو انسانیت کے لیے خطرناک طرزِعمل ہے۔آپ سب دیکھ رہے ہو کہ کس طرح لوگوں کے سر قلم کیے جا رہے ہیں اور کس طرح بچوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کٹے ہوئے سروں کو لے کر گلیوں میں چلیں۔اللہ تعالی نے کسی ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیا ہے مگر دہشت گرد دن رات لوگوں کو ناحق قتل کر رہے ہیں اور آپ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور مستقبل میں کیا کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ اگر دہشت گردوں نظرانداز کیا گیا تو وہ ایک مہینے میں یورپ تک پہنچ جائیں گے۔ اور یورپ پہنچنے کے ایک ماہ بعد وہ امریکہ پہنچ چکے ہوں گے۔اب سوشل میڈیا پر عرب شہری اور حکومتی عمال شاہ عبداللہ کی ان نصیحت آموز باتوں کو یاد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔گلف کوآپریشن کونسل کے رکن ممالک کے حکومتی عہدیداروں نے اپنے ہم منصب فرانسیسی عہدیداروں کو اس سانحے پر تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔ دوسری طرف عرب شہری سوشل میڈیا پر واقعے کی تصاویر شیئرکرکے اپنے دکھ اور رنج کا اظہار کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…