جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حملہ آوروں کی لاشوں سے مصری اور شامی پاسپورٹس برآمد

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پیرس (نیوزڈیسک) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تباہ کن حملے کرنے والے جنگجوؤں کی لاشوں کے نزدیک سے شامی اور مصری پاسپورٹس ملے ہیں۔ فرانسیسی پولیس نے ایک حملہ آور کی لاش کے نزدیک سے شامی پاسپورٹ ملنے کی تصدیق کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ اس کو یہ پاسپورٹ کہاں سے پڑا ہوا ملا ہے۔البتہ اس نے کہا ہے کہ تفتیش کار حملوں میں شامی تعلق کے مفروضے پر کام کررہے ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے فرانسیسی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی پاسپورٹ پیرس کے فٹ بال اسٹیڈیم کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑانے والے ایک حملہ آور کی لاش کے نزدیک پڑا ہوا ملا تھا۔ جمعہ کی شب پیرس میں چھے مقامات پر مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ اور بم دھماکے کیے تھے جس سے ایک سو اٹھائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان تباہ کن حملوں کے بعد قریباً تین سو زخمیوں کو اسپتال داخل کیا گیا ہے۔ان میں اسّی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے آٹھ جنگجوؤں نے یہ حملے کیے ہیں۔فرانس کے ایک پراسیکیوٹر نے بھی کہا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں آٹھ مسلح حملہ آور مارے گئے ہیں اور ساتویں جگہ پر حملہ کرنے والے ابھی تک مفرور ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ باٹاکلان کنسرٹ ہال پر دھاوا بولنے والے حملہ آوروں نے پہلے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ”ہم فرانس سے زیادہ مضبوط ہیں”۔بعض دوسرے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شام میں فرانس کے حملوں کے ردعمل میں یہ پُرتشدد کارروائی کررہے ہیں۔فرانسیسی لڑاکا طیارے ستمبر سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔ جرمنی میں مسلح شخص کی گرفتاری درایں اثناء جرمن میڈیا نے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی ہے کہ گذشتہ ہفتے ملک کے جنوبی علاقے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کی کار سے مشین گن ،ریوالورز اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ جرمن پولیس نے جنوبی علاقے بویریا میں پانچ نومبر کو ایک موٹروے پر معمول کی تلاشی کے دوران اس مشتبہ شخص کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی گاڑی سے بہت سی مشین گنیں ،ریوالورز اور بارود برآمد کیا گیا تھا۔ تاہم پولیس کے ایک ترجمان نے اس شخص کے پیرس حملوں سے کسی قسم کے تعلق کی تصدیق نہیں کی ہے۔ترجمان نے ایک بیان میں کہا:”میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا ہوں کہ یہ شخص اس اسلحے کے ساتھ کیا کرنے جا رہا تھا”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…