بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

کم عمر بچوں کو سکول بھیجنے سے ان کی نفسیات پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

نیویارک(نیوز ڈیسک) بچوں کو بہت چھوٹی عمر میں اسکول بھیجنے سے ان کی نفسیات پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور کنڈرگارٹن درجے میں ایک سال کی تاخیر سے بچے میں 11 برس کی عمر تک توجہ بھٹکنے اور بدترین رویئے کو 73 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں گریجویٹ اسکول ا?ف ایجوکیشن کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہےکہ اسکول تاخیر سے بھیجنے کے مثبت اثرات وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتے اور اسکول بھیجنے میں صرف ایک سال کی تاخیر بچوں کی اگلی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔تحقیق کے لیے ڈنمارک میں 7 سے 11 سال تک کے بچوں اور ان کی ذہنی کیفیات کا بھی جائزہ لیا گیا اور والدین سے ان کے متعلق سوالات کیے گئے جن میں 35 ہزار سے زائد والدین نے سروے کے جوابات دیئے اور اس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ جو بچے بڑی عمر میں اسکول میں داخل کیے گئے ان میں 11 برس تک پہنچتے پہنچتے بھی توجہ کا ارتکاز بہتر تھا اور ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر تھی۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہےکہ بچوں کو اسکول نہ بھیجا جائے تو وہ گھر میں ہی اپنے کھیل وضع کرکے اپنی تسلی کرتے ہیں اور اس سے ان کے جذبات کی تسکین ہوتی ہے جب کہ اسکول میں بچوں کی وہ ا?زادی چھن جاتی ہے جو ان کی دماغی نشوونما کےلیے ضروری ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں توجہ کی کمی اور شدید سرگرمی یا اضطراب کو اٹینشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹیوٹی ڈس ا?رڈر یا ( اے ڈی ایس ڈی) کہا جاتا ہے جس کے شکار بچے کسی بات پر ٹھیک سے توجہ دینے کی بجائے اچھل کود کرتے رہتے ہیں، اس کیفیت میں ان کی تعلیمی کارکردگی پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور اگر بچوں کو ابتدائی عمر سے اسکول تاخیر سے بھیجا جائے تو اس کیفیت میں کمی کی جاسکتی ہے۔فن لینڈ اور جرمنی جیسے ممالک بچوں کو چھوٹی عمر میں اسکول بھیجنے کی بجائے انہیں مناسب عمرمیں اسکول میں داخل کراتے ہیں اور عالمی سطح پر ان ممالک کے 15 سالہ بچے بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…