بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

جرمنی : بائیو ہیکرز نے خود کو سائے بورگ میں تبدیل کر لیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جرمنی میں بائیو ہیکرز کے ایک گروپ نے اپنے ہاتھوں کی جلد کے اندرجلنے والی ایل ای ڈی نسب کروا کر خود کو سائے بورگ ( انسان کے جسم میںٹیکنالوجی سے غیر معمولی تبدیلیاں)میں تبدیل کر لیا۔ بائیو ہیکرز کے گروپ کے ہر فرد کی جلد میں لگی ہوئی چیپ کے ماڈل کا نام نارتھ سٹار 1 ہے جس کا سائز ایک سکے جتنا ہے۔ اس ایل ای ڈی لائٹس کو ٹیٹوز کو جلد کے نیچے سے روشن کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ چیپ کو جسم میں لگانے کا کام سویڈن کا ایک آرٹسٹ کرتا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ محفوظ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے سائے بورگ بناناچاہتا ہے۔ پیٹسبرگ پر موجود ویٹ ویئرگرینڈ ہا?س میں 15 منٹ کی سرجری کے بعد اس چیپ کو ہاتھ میں نسب کیا جاتا ہے۔ پہلی بار ٹم کینن نے اس چیپ کو بنایااور وہ پہلا شخص تھا جس نے اس چیپ کو اپنے جسم میں لگوایا تھا۔ ٹم کینن نے دو سال پہلے اپنے جسم میں کریکیڈیا 1.0 کمپیوٹر چیپ جو سگریٹ کے سائز کی تھی نسب کروائی تھی۔ بائیو ہیکرز کے گروپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے آلات بائیو ہیکرز کے گروپ کے تمام ممبر اپنے ٹیٹوز کو روشن کرنے کے لیے جسم میں نسب کرواناچاہتے ہیں اور اس روشنی سے چمکنے والے ٹیٹوز سے دنیا کومتاثر کرنا چاہتے ہیں۔ جدید بنایا گیا آلہ جو بائیو ہیکرز کے گروپ نے اپنے جسم میں لگوایا ہے کسی مقناطیسی قوت کی موجودگی میں 10 سیکنڈ میںآن ہو جاتا ہے۔ سلیکون سے بنا ہوا یہ آلہ 3 وولٹ کی بیٹری سے منسلک ہے۔ اس بیٹری سے ملنے والی پاور سے آلہ دس ہزار بار روشن ہو سکتا ہے۔نارتھ سٹار کا دوسرا ماڈل ایک بلیو ٹوتھ ہے جو ہاتھ کی حرکت سے کسی بھی قریبی برقی آلے کو کنٹرول کر سکتا ہے جیسے کہ قریب چلنے والا ٹی وی۔کینن نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ لوگ ان کے نئے بلیو ٹوتھ کی خوبی رکھنے والے ماڈل کے مارکیٹ میں آنے کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو مزید چھوٹا کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ سائنس کو حقیقت کا روپ مل سکے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…