پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ماں باپ کے زیادہ قریب بچے مستقبل میں ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) والدین اپنے تمام بچوں سے یکساں پیار کرتے ہیں لیکن کوئی ایک ایسا بچہ بھی ہوتا ہے جو دیگر بہن بھائیوں کے مقابلے میں ماں باپ کے زیادہ قریب ہوتا ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ایسے بچوں میں مستقبل میں ڈپریشن کا شکار ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن میں والدین کی خصوصی توجہ کامرکز بننے والے بچوں کو اپنے بہن بھائیوں کی جانب سے رقابت کے جذبات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ان کے اپنے بہن بھائیوں سے تعلقات میں گرم جوشی میں بھی کمی پائی جاتی ہے۔ امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر جل سوٹر کہنا ہے کہ ایسے افراد جو جذباتی طور پر اپنی ماں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں انہیں اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مستقبل میں ایسے بچوں میں ڈپریشن کی علامات زیادہ دیکھی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کی وجہ سے خصوصی توجہ کے حامل بچوں کو مشکل میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ٹینشن میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے دوران بچوں سمیت 49 سال کی عمر تک کے 725 افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کے اور والدین کے درمیان جذباتی وابستگی، گھریلو تنازعات، فخر اور محرومی کے احساسات پر غور کیا گیا۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ نوجوان جو یہ احساس رکھتے ہیں کہ پرورش کے دوران ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور وہ افراد جو زیادہ لڑائی جھگڑے کرتے ہیں ان میں ذہنی تناو¿ کی اور زیادہ علامات پائی جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اپنے والدین کی خصوصی توجہ حاصل کرنے والے بچے بڑے ہوکر اپنے بہن بھائیوں کے مقابلے میں کم حلقہ احباب رکھتے ہیں اور ان کا سماجی حلقہ محدود ہوتا ہے۔ ماہر سماجیات ارابیلا رسل کے مطابق یہ مسائل ازدواجی زندگی پر بھی اثر انداز ہو کرمنفی اثرات ڈالتے ہیں۔ تحقیق کے دوران چند والدین نے ہی بہ مشکل اعتراف کیا کہ ان کے بچوں میں سے کوئی بیٹا یا بیٹی ان کی پسندیدہ اولاد ہے تاہم تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ متعدد والدین کی جانب سے ایسا رویہ اپنایا جاتا ہے۔ تحقیق میں ایک اور بات بھی سامنے آئی کہ والدین اس بچے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جن کی شکل ان سے زیادہ ملتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…