اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

آئی ایس پی ار کے بیان کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے،مولانا فضل الرحمان

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فوج کی حکومتی کارکردگی سے متعلق بیان کو دھمکی یا تصادم کے تناظر میں لینے کی بجائے مثبت انداز سے لینے کی ضرورت ہے۔بنیادی مسائل کے حل کے لئے ایپکس کمیٹی موجود ہے۔جمعیت علماءاسلام کے زیر اہتمام فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے گرینڈ قبائلی جرگہ سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی ار کے بیان کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ فوج کے بیان کو تصادم تصور کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے فوج پہلے سے ہی قربانیاں دے رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ گڈ گورننس سے متعلق آئی ایس پی آر کے بیان کو دھمکی کے الفاظ سے کیوں تعبیر کیا جا رہا ہے، آرمی چیف وزیراعظم کوہدایات نہیں دے سکتے ، انہیں یہ الفاظ کیوں پہنائے جارہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ یہ بات تو طے ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے پاک فوج قربانیاں دے رہی ہے ، ہر صوبے میں ایک ایپکس کمیٹی قائم ہے اور یہ سب چیزیں باہمی مشاورت سے چل رہی ہیں ، اس میں اگر کہیں نتائج کے حصول میں رکاوٹ ہے تو ایک ادارہ اپنی تجاویز دیتا ہے۔ فاٹا اور قبائلیوں کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ فاٹا کی سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلے قبائل کی مرضی کے مطابق ہونے چایئے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے جوفیصلہ کرنا ہو اس سے قبل وہاں کے مقامی لوگوں کواعتماد میں لینے کی ضرورت ہے اورجوبھی فیصلہ ہوگا انہی لوگوں کے مرضی کے مطابق ہونا چاہیئے ،دوسرے کے فیصلوں کوقبائلیوں پرمسلط نہیں ہونے دیں گے۔مولانا فضل الرحمان کی زیر صدرات ہونے والے گرینڈ قبائل جرگے میں قبائلیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔جرگے کا مقصد فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…