اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

براہمداغ بگٹی کی بات چیت پر رضامندی کا خیر مقدم، حکومت اور ریاست پاکستان نے کبھی بات چیت سے انکار نہیں کیا، سرفراز بگٹی

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کوئٹہ (نیوزڈیسک)بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ناراض قوم پرست بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی کی طرف سے بات چیت پر رضامندی کا خیر مقدم کیا ہے۔غیرملکی میڈیا سے خصوصی گفتگو میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت اور ریاست پاکستان نے کبھی بات چیت سے انکار نہیں کیا، وزیراعظم پاکستان نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو بلوچستان میں امن کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا کام سونپا ہے اور انہیں مذاکرات کا پورا اختیار حاصل ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کودیے گئے ایک انٹرویو میں براہمداغ بگٹی نے کہا تھا کہ بلوچستان میں امن کے لیے مذاکرات پر ا ن کی رائے جاننے کے لیے بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبد المالک بلوچ اور وفاقی وزیر برائے سرحدی امور عبدالقادر بلوچ نے جنیوا میں ا ±ن سے ملاقات کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے پر وہ بات کرنے کو تیار ہیں لیکن براہمداغ بگٹی کے بقول بلوچ رہنماو ں سے مذاکرات کے لیے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو بلوچستان میں امن کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا کام سونپا ہے اور انہیں مذاکرات کا پورا اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں سمیت کوئی بھی مذاکرات کا حصہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ براہمداغ کا آج نقطہ نظر تبدیل ہوا ہے اور یہ بہت مثبت بات ہے کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اب بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔اس سے قبل شدت پسند بلوچ رہنماو ں نے بلوچستان سے فوجی آپریشن ختم ہونے تک مذاکرات سے انکار کیا تھا۔ براہمداغ بگٹی نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے ہیں جو 2006ئ میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔نواب اکبر بگٹی کی موت کے بعد براہمداغ بگٹی اور بعض دیگر بلوچ رہنماو ں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی تھی اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر شدت پسندانہ کارروائی شروع کی گئیں تھیں جن میں سرکاری تنصیبات اور صوبے کے غیر بلوچ رہائشیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچ شدت پسندوں کا مو ¿قف ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے ریاست سے برسرپیکار ہیں۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ مذاکرات کے لیے باہمی اعتماد سازی کے کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ہی بات چیت ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…