جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اورنج لائن میٹرو ٹرین، منصوبے کا این او سی نہ دینے پرڈی جی آثار قدیمہ تبدیل

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور (این این آئی) لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا این او سی نہ دینے پرڈی جی آثار قدیمہ سلیم الحق کو تبدیل کر کے چارج چودھری اعجاز کو دے دیاگیا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق عوامی مفادات کو نظرانداز کر کے شروع کئے جانیوالے منصوبے ہمیشہ ہی تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا لاہور میں تعمیر کی جانیوالی اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کو ہے جس کی زد میں کبھی تاریخی عمارتیں آتی ہیں تو کبھی لاہوریوں کی رہائشیں اور اب ایک بار پھر اس کے روٹ میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ دباو کے باوجود این او سی جاری نہ کرنے پر ڈی جی آرکیالوجی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔عوامی مفادات کی پروا کئے بغیر حکومت نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ تو شروع کر دیا لیکن اس کی وجہ سے درپیش مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ منصوبے پر کام شروع ہوئے دو ماہ گزر گئے اور اربوں روپے خرچ بھی کئے جا چکے ہیں لیکن ٹرین کے روٹ کو تاحال فائنل نہیں کیا جا سکا۔ ناقص منصوبہ بندی کے باعث روٹ میں ایک بار پھر تبدیلی کرنا پڑ رہی ہے جس کے بعد ایل ڈی اے نے منصوبے کی پبلک ہیرینگ کا فیصلہ کیا ہے جو تیس نومبر کو کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق پبلک ہیئرنگ میں عوام منصوبے کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگا ہ کرینگے۔ دوسری جانب نئے روٹ کی زد میں آنے والے علاقے کپور تھلہ کے متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ادھر منصوبے پر تاحال محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا۔ ڈی جی آرکیالوجی حکومت کے دباو میں نہیں آئے جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا اور انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکومت نے این او سی نہ دینے پر ڈی جی آثار قدیمہ سلیم الحق کو فارغ کر کے ان کی جگہ ایک پی سی ایس افسر چودھری اعجاز کو نیا ڈی جی لگا دیا ہے حالانکہ چودھری اعجاز آرکیالوجی کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔
مزید پڑھئیے: ذولفقار مرزا کے آصف زرداری کے بارے میں ایسے نازیبا الفاظ جو آپ کو شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیں گے

اعجاز خان کے اپنی سابقہ اہلیہ ریحام خان کے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…