اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

یونیسکوکاابن سینا ایوارڈزپاکستانی پروفیسرنے جیت لیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا ابن سینا ایوارڈ برائے اخلاقیات سائنس 2015بائیوٹیکنالوجی اوربائیو ایتھیکس کے پاکستانی پروفیسرضابطہ خان شنواری نے جیت لیا۔ایوارڈ کا مقصدان عظیم لوگوں کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے جو سائنس کو انسانی فلاح وبہبود کے لئے استعمال میں لانے اور اس سے بنی نوع انسان کو رہتی دنیا تک فائدہ پہنچانے کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر ضابطہ خان شنواری لائق تحسین ہیں۔ یونیسکوکی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق پروفیسرضابطہ خان شنواری کوایوارڈ کے لئے ڈائریکٹر جنرل یونیسکوارنا بوکووا اوربین الاقوامی اسکالرز وایتھیسسٹ کی جیوری نے منتخب کیا۔جیوری نے پروفیسرشنواری کو منتخب کرنے کی وجہ سائنسی تحقیق ، تعلیم ، تنظیم اور سائنسی اخلاقیات کے شعبوں میں ان کی غیرمعمولی لگن اورجدوجہد کوقراردیا۔پروفیسر ضابطہ خان شنواری کو پیرس میں یونیسکو کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد تقریب میں ایوارڈ سے نوازگیا۔تقریب میں ایران کے وزیربرائے سائنس،ریسرچ اورٹیکنالوجی محمد فرہادی، یونیسکو میں ایران کے مستقل مندوب اورسفیراحمد جلالی،یونیسکواے وی سینا ایوارڈایتھیکس سائنس 2015کی بین الاقوامی جیوری کی چیئرپرسن ،ورلڈ کمیشن برائے ایتھیکس آف سائنٹیفک نالج اینڈ ٹیکنالوجی(سی اوایم ای ایس ٹی) یونیسکو کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے سوشل اینڈ ہیومن سائنسز نادا ال نشف نے شرکت کی۔سائنسی اخلاقیات کے لئے ایوارڈ کا مقصد سائنس کے شعبے میں کام کرنے والے افراد اوراداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ سائنس اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئی ایجادات، دریافت اورمختلف پیچیدہ سوالات کے جوابات تلاش کرنا۔ ایسے مقاصد ہیں جو یونیسکو کی بھی ترجیح ہیں۔ایوارڈ گولڈ میڈل، سرٹیفیکیٹ اوردس ہزار امریکی ڈالرز پرمشتمل ہے۔ ایوارڈ جیتنے والے کوایوارڈ ڈونرملک یعنی ایران کے ایک ہفتے کے دورے کی دعوت بھی دی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…