بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

جماعت اسلامی نے خیبرپختونخواحکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں میں پینٹ شرٹ رائج کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمدخان نے کہاہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں میں پینٹ شرٹ بطور یونیفارم رائج کرنے کی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ ہمیں اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی مشورہ کیا گیا ہے۔ یہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شق نمبر 8کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہم نے اپنے وزراءکو ہدایت کردی ہے کہ اس مسئلے کو کابینہ اجلاس میں اٹھائیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گی۔ تعلیم عقیدے، قومی اقدار، روایات اور ثقافت کے تحفظ کا ذریعہ ہے ۔ اپنی اقدار اور روایات کو کسی صورت مسخ نہیں ہونے دیں گے۔ تعلیم کی امریکنائزیشن کسی صورت قبول نہیں۔حکومت سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں قومی لباس کو بطور یونیفارم رائج کرے۔وزیر تعلیم پینٹ شرٹ کے نفاذ سے تعلیم کے فروغ کے لئے اپنے اچھے اقدامات کو دریا برد نہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی سے جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں کیا۔ مشتاق احمدخان نے کہا کہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ قومیں ہمیشہ اپنے اقدار ، روایات اور زبان ہی کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں۔ دوسری قوموں کی نقالی صرف غلامانہ ذہنیت پیدا کرتی ہے۔ اس سے قوموں میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ پرائی زبان اور پرائے لباس میں ترقی ڈھونڈنا بھول پن ہے۔ حکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں قومی لباس شلوار قمیض کو رائج کرے اور پینٹ شرٹ پر پابندی لگائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی نصاب اور انگریزی زبان کی وجہ سے ملک میں طبقاتی نظام نے جنم لیا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی اور حکمرانوں کی سوچ میں ایک خلیج پیدا ہوگئی ہے۔ غیر ملکی زبان کی وجہ سے عام طالبعلم اعلیٰ امتحانات میں قابلیت کے ہونے کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس وقت ملک میں سب سے بڑی ضرورت قومی ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق کی ہے۔ ایک نظام، ایک نصاب اور ایک زبان کے ذریعے طبقاتی تقسیم کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ قومی اقدار اور ثقافت کو فروغ دے ۔ جلد بازی میں حکومت ایسے فیصلے نہ کرے جن کے مضمرات پر غور نہیں کیا گیا۔ غیر ملکی لباس کے رائج ہونے سے ہمارے معاشرے پر نہایت بھیانک اثرات مرتب ہوں گے۔ صوبہ کے دیہی اور دوردراز کے علاقوں میں یہ لباس تعلیم کے راستے میں سب سے بڑی رکاو ٹ ثابت ہوگی۔



کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…