اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

جماعت اسلامی نے خیبرپختونخواحکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں میں پینٹ شرٹ رائج کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمدخان نے کہاہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں میں پینٹ شرٹ بطور یونیفارم رائج کرنے کی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ ہمیں اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی مشورہ کیا گیا ہے۔ یہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شق نمبر 8کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہم نے اپنے وزراءکو ہدایت کردی ہے کہ اس مسئلے کو کابینہ اجلاس میں اٹھائیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گی۔ تعلیم عقیدے، قومی اقدار، روایات اور ثقافت کے تحفظ کا ذریعہ ہے ۔ اپنی اقدار اور روایات کو کسی صورت مسخ نہیں ہونے دیں گے۔ تعلیم کی امریکنائزیشن کسی صورت قبول نہیں۔حکومت سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں قومی لباس کو بطور یونیفارم رائج کرے۔وزیر تعلیم پینٹ شرٹ کے نفاذ سے تعلیم کے فروغ کے لئے اپنے اچھے اقدامات کو دریا برد نہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی سے جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں کیا۔ مشتاق احمدخان نے کہا کہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ قومیں ہمیشہ اپنے اقدار ، روایات اور زبان ہی کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں۔ دوسری قوموں کی نقالی صرف غلامانہ ذہنیت پیدا کرتی ہے۔ اس سے قوموں میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ پرائی زبان اور پرائے لباس میں ترقی ڈھونڈنا بھول پن ہے۔ حکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں قومی لباس شلوار قمیض کو رائج کرے اور پینٹ شرٹ پر پابندی لگائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی نصاب اور انگریزی زبان کی وجہ سے ملک میں طبقاتی نظام نے جنم لیا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی اور حکمرانوں کی سوچ میں ایک خلیج پیدا ہوگئی ہے۔ غیر ملکی زبان کی وجہ سے عام طالبعلم اعلیٰ امتحانات میں قابلیت کے ہونے کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس وقت ملک میں سب سے بڑی ضرورت قومی ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق کی ہے۔ ایک نظام، ایک نصاب اور ایک زبان کے ذریعے طبقاتی تقسیم کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ قومی اقدار اور ثقافت کو فروغ دے ۔ جلد بازی میں حکومت ایسے فیصلے نہ کرے جن کے مضمرات پر غور نہیں کیا گیا۔ غیر ملکی لباس کے رائج ہونے سے ہمارے معاشرے پر نہایت بھیانک اثرات مرتب ہوں گے۔ صوبہ کے دیہی اور دوردراز کے علاقوں میں یہ لباس تعلیم کے راستے میں سب سے بڑی رکاو ٹ ثابت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…