اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

نئی ای سی ایل پالیسی ،وزارت داخلہ نے تردید کردی

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے اعلان کردہ نئی ای سی ایل پالیسی کے تحت سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، ٹرابیونلز جن کا درجہ ہائی کورٹ کے برابر ہو، ڈیفنس ہیڈ کوراٹرز، حساس اداروں، نیب، ایف آئی اے اور وفاقی حکومت کی سفارش پر ہی ای سی ایل میں نام ڈالے جا سکتے ہیں۔ جمعرات کو ترجمان وزارتِ داخلہ نے 29اکتوبر2015 کو میڈیا کے چند حلقوں میں چھپنے والی اس خبر،کہ جس میں کہا گیا تھا کہ وزارتِ داخلہ نے نیب کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے میگا سکینڈلز میں ملوث 300سے زائد افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کر دیے ہیں، کے حوالے سے کہا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے اعلان کردہ نئی ای سی ایل پالیسی کے تحت سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، ٹرابیونلز جن کا درجہ ہائی کورٹ کے برابر ہو، ڈیفنس ہیڈ کوراٹرز، حساس اداروں، نیب، ایف آئی اے اور وفاقی حکومت کی سفارش پر ہی ای سی ایل میں نام ڈالے جا سکتے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت، ہے ما سوائے دہشت گردی، جاسوسی، بغاوت، اینٹی ٹیریرزم ایکٹ فورتھ شیڈول، ملک خلاف، منشیات اور انسانی سمگلنگ کیسیزکے، کوئی نام زیادہ سے زیادہ تین سال تک ای سی ایل میں رکھا جا سکتا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ نئی پالیسی کو تمام سٹیک ہولڈرز اور ماہر ین قوانین کی مشاور ت اور اس بات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے کہ پرانے ضابطہ کار کے مطابق لوگوں کے نام پچیس پچیس سال سے بھی زائد عرصے تک ای سی ایل میں پڑے رہتے تھے۔پرانے ضابطہ کار میں نہ تو ای سی ایل سے نام نکالے جانے کا طریقہ کار مقرر تھا اور نہ ہی اس بات کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا کہ کوئی نام کب ای سی ایل میں ڈالا گیا اور کتنے عرصے کے لئے ڈالا گیا۔ یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ ای سی ایل میں نام ڈلوانے کے بعد متعلقہ محکمے ایک لمبے عرصے کے لئے خاموشی اختیار کر لیتے تھے۔ اعلیٰ عدالتوں نے بھی متعدد کیسیز کی سماعت کے دوران یہ بات کہی کہ کسی کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا ملک کے آئین کے منافی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہر تفتیشی ادارے کو قانونی طور پر اختیار حاصل ہے کہ وہ جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرے یا تفتیش کے لئے یا پھر ملزم کو تفتیش کا حصہ بنانے کے لئے دیگر قانونی راستے اختیار کرے۔ ترجمان نے کہا کہ ای سی ایل کا استعمال بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس سے کسی کی آزادانہ نقل و حمل جیسے بنیادی حق پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ تمام ڈیپارٹمنس اور سٹیک ہولڈرز میں نئی ای سی ایل پالیسی کے قواعد و ضوابط کی تشہیر کی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ نیب کے نمائندگان بھی نئی ای سی ایل پالیسی کے سلسلے میں منعقدہ بریفنگز اور میٹینگز میں موجود ہوتے تھے اور ان میٹینگز میںواضح طور پر مطلع کیا گیا کہ ایسے تمام لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکال دیے جائیں گے جو تین سال سے زائد عرصے سے ای سی ایل میں موجود ہیں ماسوائے ان ناموں کے جو خصوصی طور پر اس سے برعکس کےلئے منظور کئے جائیں گے۔ترجمان نے کہا کہ آئندہ کوئی نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کےلئے نئی ای سی ایل پالیسی کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…