نئی دہلی۔۔۔۔بھارت کے دارالحکومت دہلی میں گذشتہ دنوں ایک ٹیکسی میں خاتون مسافر سے جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد پھر سے خواتین کی حفاظت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ایسے ماحول میں حکومت نے سکیورٹی کے لیے ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے کئی قوانین تو طے کر دیے ہیں لیکن اس واقعے کے بعد خواتین میں مرد ٹیکسی ڈرائیوروں سے عدم تحفظ کا احساس بڑھنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
تو کیا ٹیکسی میں خواتین ڈرائیوروں کے ہونے سے خواتین مسافروں کے لیے سفر زیادہ محفوظ ہوگا؟
ممبئی کی ایک ایسی ہی ٹیکسی سروس ہے جو دعوی ٰکرتی ہے کہ ان کی ٹیم میں نہ صرف تمام ڈرائیور خواتین ہیں بلکہ انہیں کسی انہونی سے نمٹنے کے لیے اور عورت مسافروں کی حفاظت کے لیے مارشل آرٹ کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔آغاز میں یہ آسان نہیں تھا، راستے انجان تھے اور کئی بار مرد ڈرائیور اوورٹیک کرکے ڈرانے کی کوشش بھی کرتے تھے لیکن ہم بغیر ڈرے اپنے کام میں لگے رہے۔
شاردا
52سال کی شاردا بھرت پٹیل اس جماعت کی سب سینیئر رکن ہیں۔ چار سال پہلے ہی وہ اس سروس سے وابستہ ہوئی ہیں۔شاردا بتاتی ہیں: ’میں شوقیہ اس پیشے سے وابستہ ہوئی لیکن اب اس کام میں مزہ آتا ہے۔ آغاز میں یہ آسان نہیں تھا، راستے انجان تھے اور کئی بار مرد ڈرائیور اوورٹیک کر کے ڈرانے کی کوشش بھی کرتے تھے لیکن ہم بغیر ڈرے اپنے کام میں لگے رہے۔‘کیا کبھی انہیں ڈر نہیں لگتا کہ اگر کوئی مرد مسافر ہی کوئی ناخوشگوار حرکت کرنے کی کوشش کرے؟ایک دوسری خاتون ڈرائیور شیبا شیخ بتاتی ہیں: ’ہم لوگوں کو تربیت کے دوران ہی ایسی صورتحال سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی منچلے مسافر سے سامنا ہو، تب اس کے کہنے کے مطابق ہی کام کریں اور موقع پاتے ہی فورا ’پین? بٹن‘ دبا دیں یا پھر مارشل آرٹ کا کوئی داؤ ہی اس پر لگا دیں۔‘ان ڈرائیوروں کے پاس ایک بیگ بھی ہوتا ہے، جس میں مرچوں کا سپرے، قلم اور سیفٹی پن کے ساتھ ایک بانس کا ڈنڈا بھی ہوتا ہے۔سابقہ نرس انیتا سدھارتھ مانے کو ڈرائیور بننے کے لیے اپنے خاندان کو منانے میں خاصی مشکلات پیش آئیں۔
وہ کہتی ہیں: ’ابتدائی مشکلات کے بعد اب میرے خاندان والے سب کو فخر سے میرے بارے میں بتاتے ہیں۔ یہ صرف کمائی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ اپنے دفاع کا شعور بیدار کرتی خواتین کی ٹولی ہے۔‘
ممبئی کی ایک کاروباری خاتون ایشوریہ پاک شیٹی نے کہا کہ ’ایک کاروباری خاتون کے لیے دیر رات گھر آنا کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن دہلی میں ہونے والے حادثے کے بعد جب ٹیکسی میں خاتون ڈرائیور ملے تو سکون سا محسوس ہوتا ہے۔ میں تو خواتین ڈرائیور والی کیب کو ہمیشہ ترجیح دوں گی۔‘اس ٹیکسی سروس کی منتظم پریتی شرما مینن بتاتی ہیں کہ اس سروس کے لیے انہیں ڈرائیور کی تلاش میں بہت مشکل ہوتی ہے لیکن پھر بھی حالات دن بہ دن بہتر ہو رہے ہیں۔پریتی دعویٰ کرتی ہیں کہ، ’اعداد و شمار کی بات کریں، تو مردوں کے مقابلے خواتین سے بہت کم سڑک حادثات ہوتے ہیں۔ وہ ڈرائیونگ کے دوران کافی محتاط بھی رہتی ہیں۔‘
بھارت میں خواتین ٹیکسی ڈراےؤروں کو مارشل آرٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی ،کلک کر کے پڑھیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
iPhone 18 Pro Max کی پاکستان میں قیمت اور PTA ٹیکس سامنے آگیا
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر کردی گئیں
-
بقایاجات ادا نہ کرنے اورگالیاں دینے پرورکر نے طیش میں آکر فیکٹری کو آگ لگادی‘ 24 کروڑ کا نقصان
-
حکومت کا بڑا فیصلہ، 50 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں گے
-
مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار، خوفناک انکشافات
-
خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
آئی جی اسلام آباد کا بڑا فیصلہ، کنٹینرز فوری مالکان کے حوالے کرنے کی ہدایت
-
2027 میں کیا ہوگا؟ خطرناک پیشگوئی سامنے آ گئی
-
گھر بنانے کے خواہشمندوں کے لیے قرضوں کے متعلق اہم اعلان
-
معروف ریسلر ، ریسلنگ کے دوران چل بسے
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا



















































