اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

مصر میں قید الجزیرہ کے تین صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم

datetime 1  جنوری‬‮  2015 |

قاہرہ۔۔۔۔مصر کی اعلیٰ عدالت نے جیل میں قید الجزیرہ کے تین صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ قاہرہ میں پیٹر گریسٹ، محمد فہمی اور بحر محمد کی اپنی سزایابی کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد سنایا گیا۔وکلائے صفائی کے مطابق استغاثہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس سے قبل دیے گئے فیصلے میں بڑے مسائل موجود تھے۔ نیا مقدمہ ایک ماہ کے اندر اندر شروع ہو جائے گا لیکن اس عرصے کے دوران تینوں کو حراست ہی میں رہنا ہو گا۔صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔2013 میں مصری فوج کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ان صحافیوں پر اخوان کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔پیٹر گریسٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے، اور وہ بی بی سی کے سابق نامہ نگار ہیں، جب کہ ان کے پروڈیوسر محمد فہمی کے پاس مصر اور کینیڈا کی شہریت ہے۔تینوں صحافی دسمبر 2013 میں گرفتار کیے جانے کے بعد سے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔
ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تینوں کو نیا مقدمے کے آغاز تک جیل ہی میں رکھا جائے۔جمعرات کو عدالت نے مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سماعت شروع کی، جو آدھا گھنٹہ جاری رہی۔صحافیوں کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی ملزم عدالت میں موجود تھے۔قاہرہ میں بی بی سی کی اورلا گیرن نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ مصر کی شبیہ کے لیے بہت نقصان دہ رہا ہے اور حکام اسے جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔ہماری نامہ نگار کے مطابق الجزیرہ ٹیلی ویڑن چینل قطر کی ملکیت ہے اور حال ہی میں قطر اور مصر کے تعلقات میں نرمی پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امیدیں بڑھی ہیں کہ بالآخر ان صحافیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔صدر السیسی نے ماضی میں کہا تھا کہ ان صحافیوں پر مقدمہ چلانے کی بجائے اگر انھیں ملک بدر کر دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…