بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مصر میں قید الجزیرہ کے تین صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم

datetime 1  جنوری‬‮  2015 |

قاہرہ۔۔۔۔مصر کی اعلیٰ عدالت نے جیل میں قید الجزیرہ کے تین صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ قاہرہ میں پیٹر گریسٹ، محمد فہمی اور بحر محمد کی اپنی سزایابی کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد سنایا گیا۔وکلائے صفائی کے مطابق استغاثہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس سے قبل دیے گئے فیصلے میں بڑے مسائل موجود تھے۔ نیا مقدمہ ایک ماہ کے اندر اندر شروع ہو جائے گا لیکن اس عرصے کے دوران تینوں کو حراست ہی میں رہنا ہو گا۔صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔2013 میں مصری فوج کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ان صحافیوں پر اخوان کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔پیٹر گریسٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے، اور وہ بی بی سی کے سابق نامہ نگار ہیں، جب کہ ان کے پروڈیوسر محمد فہمی کے پاس مصر اور کینیڈا کی شہریت ہے۔تینوں صحافی دسمبر 2013 میں گرفتار کیے جانے کے بعد سے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔
ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تینوں کو نیا مقدمے کے آغاز تک جیل ہی میں رکھا جائے۔جمعرات کو عدالت نے مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سماعت شروع کی، جو آدھا گھنٹہ جاری رہی۔صحافیوں کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی ملزم عدالت میں موجود تھے۔قاہرہ میں بی بی سی کی اورلا گیرن نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ مصر کی شبیہ کے لیے بہت نقصان دہ رہا ہے اور حکام اسے جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔ہماری نامہ نگار کے مطابق الجزیرہ ٹیلی ویڑن چینل قطر کی ملکیت ہے اور حال ہی میں قطر اور مصر کے تعلقات میں نرمی پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امیدیں بڑھی ہیں کہ بالآخر ان صحافیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔صدر السیسی نے ماضی میں کہا تھا کہ ان صحافیوں پر مقدمہ چلانے کی بجائے اگر انھیں ملک بدر کر دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…