بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

آپ کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس بلاک کردیا جائے گا؟تفصیلات جانیے

datetime 19  اگست‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی) پاسپورٹ اجراء و تجدید اور گاڑیوں کی خرید و فروخت کو ٹریفک چالان ادائیگی سے مشروط کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

ای چالان کے بعد ڈیجیٹل چالان کی ریکوری کے لیے بڑا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس سلسلے میں سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ای چالان طرز پر ڈیجیٹل چالان کی ریکوری کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب اور پنجاب انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کو مراسلہ ارسال کردیا۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ون ایپ میں زیر التواء ای چالانز کی تفصیلات بمعہ PSIDظاہر ہوتی ہیں جبکہ ڈیجیٹل چالانز کی تفصیلات موجود نہیں۔ سی ٹی او لاہور نے ون ایپ میں تمام زیر التواء ڈیجیٹل چالانز کی مکمل تفصیلات شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔مراسلے میں تجویز دی گئی ہے کہ ای چالان کی طرح ڈیجیٹل چالان نادہندگان کو بھی پولیس خدمت مراکز سے سہولیات فراہم نہ کی جائیں۔ ڈیجیٹل چالان نادہندگان کو کمپیوٹرائزڈ نیشنل آئیڈنٹی کارڈ کا اجراء ، تجدید، ترمیم یا ڈوپلیکیٹ بھی نہ کیا جائے۔سی ٹی او لاہور نے پاسپورٹ کے اجراء یا تجدید کو بھی ای چالان اور ڈیجیٹل چالان کی کلیئرنس سے مشروط کرنے کی استدعا کی ہے۔

گاڑی کی ٹرانسفر، سیل اور پرچیز کو بھی ای چالان اور ڈیجیٹل چالان کی کلیئرنس سے مشروط کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق ڈیجیٹل چالان ہونے کی صورت میں شہری چالان جمع کروانے کے بجائے نیا شناختی کارڈ اور لائسنس بنوا لیتے ہیں۔ زیر التوا ڈیجیٹل چالانز کی وصولی سے انفورسمنٹ میکانزم مضبوط اور عادی وائیلٹرز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔سی ٹی او لاہور کے مطابق زیر التوا ڈیجیٹل چالانز کی وصولی سے مجاز عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیے میں تیزی آئے گی۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ واجب الادا جرمانوں کی بروقت کلیئرنس سے حکومتی آمدن میں اضافہ، محنت اور اخراجات میں کمی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…