پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ایلان کی موت کے بعد ۔۔۔۔بین الاقوامی ادارے کالرزہ خیز انکشاف

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

برسلز(نیوزڈیسک)یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کے سمندر میں ڈوب جانے کے واقعات ابھی تک اتنے زیادہ ہیں کہ تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی موت کے بعد گزشتہ دو ماہ میں اب تک مزید 77 بچے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ایلان کردی کے اپنے خاندان اور کئی دیگر تارکین طن کے ساتھ ترکی سے یونان کی طرف خطرناک سمندری سفر کے دوران ڈوب کر ہلاک ہو جانے کے بعد اس کی لاش ترکی کے ایک ساحل سے ملی تھی۔ اس واقعے نے عالمی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ایلان کی ساحل پر موجود لاش کی تصویر کئی دنوں تک عالمی ذرائع ابلاغ میں سرخیوں کا موضوع بنی رہی تھی۔آئی او ایم کے مطابق اس سال اب تک بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد سات لاکھ چوبیس ہزار ہو چکی ہے۔ ان میں سے پناہ کے متلاشی 80 فیصد تارکین وطن ترکی سے اپنا سفر شروع کرنے کے بعد بحیرہ ایجیئن پار کر کے یونان کے راستے یورپی یونین میں داخل ہوئے۔اس دوران اس سال یکم جنوری سے لے کر جمعہ تیس اکتوبر تک کم از کم 3329 مہاجرین سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے تھے۔ اسی ہفتے ترکی سے آنے والے مہاجرین کی متعدد کشتیاں ڈوب جانے سے مزید درجنوں انسان سمندری لہروں کی نذر ہو گئے۔ ان میں ایک درجن سے زائد بچے بھی شامل تھے، جن میں سے آٹھ کی موت صرف جمعے کے روز ہوئی۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے بتایا ہے کہ ایلان کردی کی ترکی کے ایک ساحل سے لاش دو ستمبر کو ملی تھی۔ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ یہ شامی بچہ ترکی سے یونان کی طرف سفر پر تھا لیکن یونانی ساحل تک صرف اس کا والد ہی پہنچ پایا تھا۔آئی او ایم نے کہا ہے کہ ایک تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایلان کردی کی موت کے بعد سے قریب دو ماہ کے عرصے میں ایسے ہی مزید کم از کم 77 دیگر مہاجر بچے بھی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…