ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

بھارت: دوست کیساتھ گاڑی میں جانے والی خاتون سے 6 افراد کی زیادتی

datetime 14  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع کٹک میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر 6 افراد کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خاتون اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ گاڑی میں بھوبنیشور سے کیندرپاڑا جا رہی تھی کہ راستے میں ملزمان نے انہیں روک لیا۔ حملہ آوروں نے پہلے خاتون کے دوست کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی گئی۔ واقعے کے بعد ملزمان دونوں کو وہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ کٹک رورل کے ایس پی ونیٹ اگروال نے واقعے کی تفتیش کی ذمہ داری ڈی ایس پی رینک کے افسر کو سونپ دی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی مختلف ریاستوں میں خواتین اور کم عمر بچیوں کے خلاف جنسی تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جولائی میں مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے مبینہ اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔ اسی عرصے میں راجستھان میں 12 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر کئی افراد کی جانب سے متعدد روز تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کی خبر بھی سامنے آئی، جبکہ غازی آباد میں 7 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔

بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4 لاکھ 41 ہزار 534 مقدمات درج کیے گئے۔ یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں تقریباً 1.5 فیصد کم رہی، تاہم مجموعی تعداد اب بھی کافی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھارت میں ریپ کے 29 ہزار 536 مقدمات درج ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً 80 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں 28 ہزار 752 متاثرہ خواتین بالغ جبکہ 784 متاثرین کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔

اسی عرصے کے دوران ریپ یا اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے 266 مقدمات بھی درج کیے گئے، جو جنسی تشدد کے انتہائی سنگین واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے حوالے سے بھی اعداد و شمار تشویش کا باعث ہیں۔ 2024 میں پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسچوئل آفنسز ایکٹ (POCSO) کے تحت 69 ہزار 191 مقدمات درج کیے گئے، جو اس نوعیت کے مقدمات کی بلند ترین تعداد میں شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے باوجود جنسی تشدد کے حقیقی واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ سماجی دباؤ، بدنامی کا خوف، متاثرین کو ذمہ دار ٹھہرانے کا رجحان اور قانونی و پولیس نظام سے متعلق مشکلات کے باعث متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…