کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کا وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر حملہ،
7اہلکاروں سمیت 9افراد زخمی ، وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے ، کوئٹہ پہنچا دیا گیا ۔ سیکورٹی فورسز ذرائع کے مطابق جمعہ کی صبح وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو اپنے حلقے قلات میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وزیر داخلہ کے قافلے میں موجود 7اہلکار سمیع اللہ، ذکریا، نصر اللہ، عبدالرازق(ڈرائیور) ، محمد کاشف، سیف اللہ اور قریبی باغ میں کام کرنے والے دو افراد امیر محمد اور گہور خان زخمی ہوگئے ۔واقعہ کے بعد میر ضیاء اللہ لانگو کو سخت سیکورٹی میں کوئٹہ جبکہ زخمی ہونے والے افراد کو شہید غوث بخش رئیسانی ہسپتال مستونگ منتقل کردیا گیا جہاں دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جنہیں بعدازاں کوئٹہ منتقل کردیا گیا ۔ حملے کے بعد میر ضیاء اللہ لانگو نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ‘حملہ آور باغوں کے اندر موجود تھے اور دونوں جانب سے ہماری گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔وزیر داخلہ کے مطابق ان کے سکواڈ نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے اور حملے کے دوران ان کی بلٹ پروف گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ کے شیشے پر پانچ گولیاں لگیں۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اللہ کے فضل سے وہ محفوظ رہے، تاہم سکواڈ کے اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ان پٹاخوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا،پاکستان زندہ باد تھا ، زندہ باد ہے ، زندہ باد رہے گاحکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف عناصر اور ان کے مبینہ بیرونی سرپرست اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔اس طرح کے حملوں سے ہمارے عزم اور پاکستان سے محبت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔دریں اثناء وزیرداخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اپنے ایک بیا ن میں کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کے قافلے پر مستونگ کے علاقے فتنہ الہندوستان نے بزدلانہ حملہ کیا،پولیس کے بہادر جوانوں نے دہشتگردوں کے حملے کو بہادری سے پسپا کیابیس منٹ تک فتنہ الہندوستان کے حملے کا بھرپور جواب دیا گیا اوربزدل دشمن دم دما کر بھاگ گیا۔



















































