اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کے عندیے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔
ایران سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے گزشتہ روز کی قیمتوں میں کمی کے بعد ایک بار پھر سپلائی سے متعلق خدشات کو نمایاں کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 9 سینٹ یعنی 0.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 87.16 ڈالر ہوگئی۔امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 4 سینٹ بڑھ کر 81.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔اس سے ایک روز قبل برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کمی سے قبل برینٹ مسلسل 6 جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 5 کاروباری سیشنز تک مہنگا ہوا تھا۔حالیہ معمولی اضافے کے باوجود رواں ہفتے دونوں عالمی بینچ مارکس کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 4 فیصد اضافے کا امکان برقرار ہے۔ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی اہم وجوہات میں ایران کے خلاف امریکی اقدامات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال شامل ہیں۔
ایران کی بحری تجارت یا تیل کی برآمدات طویل عرصے تک متاثر ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔امریکی بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے عالمی مارکیٹ تک تیل کی ترسیل میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی طلب کمزور ہونے کے خدشات گزشتہ سیشن میں قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ رہے۔ تاہم ایران سے متعلق تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کو مارکیٹ کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔



















































