اسلام آباد (نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بجلی پر فی یونٹ 5 روپے سیلز ٹیکس سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکس عام گھریلو یا تجارتی صارفین پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر کی مخصوص رجسٹرڈ صنعتوں سے وصول کیا جائے گا۔
ایف بی آر کے جاری کردہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے مطابق منتخب رجسٹرڈ میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس کی بجلی کی کھپت پر فی یونٹ پانچ روپے کے حساب سے سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اہل صنعتوں کے بجلی کے بلوں میں یہ ٹیکس شامل کریں۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد اسٹیل کی صنعت میں ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید منظم، شفاف اور مکمل طور پر دستاویزی بنانا ہے، تاکہ محصولات کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹیکس صرف ان رجسٹرڈ مینوفیکچررز پر لاگو ہوگا جو مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ ان میں وہ صنعتی ادارے شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ بارہ ماہ کے دوران مخصوص ایچ ایس کوڈز کے تحت بڑی مقدار میں اسکریپ درآمد کیا ہو یا ای ایف ایس درآمد کنندگان سے براہِ راست خریداری کی ہو، جبکہ ان کا پیداواری نظام ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہو۔
بورڈ نے ایسے اہل مینوفیکچررز کی فہرست بھی جاری کر دی ہے، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اس میں ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ایف بی آر یا متعلقہ ٹیکس حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کمپنیوں کی اہلیت کا دوبارہ جائزہ لے کر انہیں فہرست میں شامل یا خارج کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں اسٹیل کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، جس کے اثرات تعمیراتی شعبے اور اسٹیل سے تیار ہونے والی مختلف مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام کو مؤثر بنانا اور محصولات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔



















































