کراچی(این این آئی)گلستانِ جوہر سے نوجوان میر رضا علی کی لاش ملنے کے ہائی پروفائل قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتول کو ایک گولی پیچھے سے ماری گئی، جو سینے سے باہر نکل گئی، جبکہ موت شدید خون بہنے کے باعث ہونے والے ہیمرجک شاک سے واقع ہوئی۔دوسری جانب پولیس نے جائے وقوعہ سے متعلق نئی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 19 افراد کو حراست میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی لاش تقریباً 24 سے 36 گھنٹے پرانی اور گلی سڑی حالت میں تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقتول کے جسم پر ایک ہی گولی کا زخم موجود تھا، جو کمر کی جانب سے داخل ہو کر سینے سے باہر نکلی، جس سے دل اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق موت شدید خون بہنے اور جسمانی اعضا کے کام بند ہونے کے باعث ہونے والے ہیمرجک شاک سے واقع ہوئی۔پوسٹ مارٹم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاش کے گل جانے کے باعث چہرہ بری طرح متاثر ہو چکا تھا اور جسم کے مختلف حصوں کی کھال خراب ہو گئی تھی۔ میڈیکو لیگل ذرائع کے مطابق مقتول کے دائیں ہاتھ پر چند مشکوک نشانات بھی پائے گئے، جبکہ ٹھوڑی کے نیچے بھی ایک زخم موجود تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سر کے مزید تفصیلی معائنے سے چہرے کی خرابی کی اصل وجوہات سامنے آ سکتی تھیں، جبکہ اگر پوسٹ مارٹم کسی سینئر ماہر کی نگرانی میں کیا جاتا تو مزید اہم شواہد بھی سامنے آ سکتے تھے۔ابتدائی رپورٹ میں جسم پر کسی اور تازہ تشدد، فریکچر یا لاش کو جلانے کے شواہد نہیں ملے۔
تاہم کیمیائی تجزیے کے لیے معدہ، جگر، گردے، تلی اور دیگر اعضا کے نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں، جبکہ فرانزک اور کیمیائی تجزیے کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد موت کی وجوہات سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔دوسری جانب تفتیشی حکام نے 29 جولائی کی صبح 8 بجے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے، جس میں ایک کچرا چننے والا شخص جائے وقوعہ پر آتا دکھائی دیتا ہے۔ پولیس کے مطابق مذکورہ شخص تقریباً آٹھ منٹ تک موقع پر موجود رہا اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ ممکنہ طور پر وہی موقع سے اٹھا کر لے گیا ہو۔ پولیس فوٹیج کی مدد سے مشتبہ شخص کی شناخت اور اس کے کردار کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش کے دوران اب تک مجموعی طور پر 19 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں ایک نجی گیسٹ ہاؤس کے ملازمین، مقتول کا موبائل فون استعمال کرنے والے افراد، اس کے کاروباری شراکت دار، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور اور دیگر اہم افراد شامل ہیں۔
پولیس حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ زیر حراست افراد سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ جاری ہے اور تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو صبح 11 بجے کے بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی، جس کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے جدید سائنسی شواہد، فرانزک رپورٹس اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔



















































