واشنگٹن(این این آئی)امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں کے بعد
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 3ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی معیار کے برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتیں امریکا اور ایران معاہدے 13جولائی کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5فیصد کمی کے بعد اس کی قیمت 80ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگئی، اسی طرح امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 5فیصد سے زائد سستا ہو کر تقریباً 76ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی جن میں انھوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد بحال ہونے کی امید ہے۔ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ بہت جلد طے پا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا معاہدہ منگل یا بدھ تک طے پانے کا امکان ہے۔اگرچہ امریکی حکام مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کر رہے ہیں تاہم ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئیں جبکہ ایران نے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کئی بار مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھا کا شکار رہی۔ کشیدگی میں اضافے سے خام تیل مہنگا ہوا جس کے اثرات دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ سے قبل دنیا بھر میں یومیہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً 20فیصد گزرتا تھا۔



















































