میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے ایک ہی زندگی میں پتھر کے زمانے سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس تک کا سفر طے کیا‘
میرے ماضی میں کیا کیا حیران کن چیزیں اور روایات تھیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گئیں اور ان کی جگہ کس کس روایت اور ٹیکنالوجی نے لی میں اس سفر میں آپ کو شامل کرنا چاہتا ہو‘ یہ عین ممکن ہے یہ سب کچھ آپ کے لیے بھی حیران کن ہو‘ مثلاً ہمارے گائوں شاہ سرمست میں بجلی نہیں تھی‘ لوگ رات کے وقت روشنی کے لیے سرسوں کے تیل کے دیے جلاتے تھے یا پھر لالٹین۔ گھروں اور دکانوں میں دیوں کے لیے طاق بنے ہوتے تھے‘ یہ اینٹوں کی نیش ہوتی تھی جس کے اندر ایک یا دو دیے رکھے جا سکتے تھے‘ ہم پنجابی زبان میں اسے ’’آل ناں‘‘ کہتے تھے‘ گھروں میں تین چار قسم کے آلنے (طاق) ہوتے تھے‘ دودھ کو بلی سے بچانے کے لیے اتنا بڑا طاق بنایا جاتا تھا جس میں کڑھے ہوئے دودھ کی چھوٹی چاٹی رکھی جاسکے‘ سالن کے لیے الگ طاق ہوتے تھے اور گڑ شکر کے لیے الگ جب کہ پیتل اور تانبے کے برتن اور قرآن مجید رکھنے کے لیے لکڑی کے رنگین شیڈز بنائے جاتے تھے جنہیں ہم اپنی زبان میںچھتی کہتے تھے‘ اس زمانے میں ہر گھر کے بڑے کمرے کی دیوار پردائیں بائیں چھتیاں ہوتی تھیں اور ان پر صاف ستھرے چمک دار برتن قطار میں لگے ہوتے تھے‘
برتنوں کی تعداد اور صفائی سے گھر کی امارت اور عورت کے سگھڑ پن کا اندازہ ہوتا تھا‘ یہ برتن عموماً عورت جہیز میں لے کر آتی تھی چناں چہ وہ ان کی دل و جان سے حفاظت کرتی تھی‘ لوگ برتنوں سے عورت کے میکے کے مال و دولت کا اندازہ کرتے تھے‘ ہر سال قلعی گر گائوں میں آتے تھے اور ’’بھانڈے قلعی کرا لو‘‘ کی آوازیں لگاتے تھے‘ عورتیں دوڑ کر انہیں بلا لیتی تھیں اور وہ آ کر صحن کو چھوٹی سی عارضی ورکشاپ بنا دیتے تھے‘ ان کے پاس اپنی انگیٹھی ہوتی تھی جسے وہ اڈہ کہتے تھے‘ وہ لکڑی کا کوئلہ جلا کر انگیٹھی جلاتے تھے‘ اس پر تانبے یا پیتل کے برتن رکھ کر انہیں گرم کرتے تھے اور پھر گندے سے جھولے سے کوئی جادوئی دھات کی پتری نکالتے تھے اور اسے انگیٹھی پر گرم کرنے لگتے تھے‘ وہ دھات بہت جلد پگھل جاتی تھی‘ وہ اس پگھلی ہوئی دھات کو برتن کے باہر اور اندر لگا کر اسے رگڑنا شروع کرتے تھے اور یوں برتن سونے کی طرح چمکنے لگتے تھے‘ عورتیں آخر میں انہیں بطور معاوضہ گندم‘ دالیں یا تل دیتی تھیں اور وہ سلام کر کے اگلے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے تھے جہاں عورتیں اپنے برتن صحن (ویڑے) میں رکھ کر ان کا انتظار کر رہی ہوتی تھیں‘ رئیس اور بڑے زمین داروں کی لڑکیاں جہیز میں سونے کے چمچ (ہم انہیں پنجابی میں کاشک کہتے تھے‘ مجھے مدت بعد معلوم ہوا کاشک ازبک زبان کا لفظ ہے اور آج بھی اسے ازبکستان میں کاشک ہی کہا جاتا ہے) اور چاندی کے برتن دیتے تھے جب کہ اسے دو تین بھینسیں‘ درجنوں کھیس اور گائوں کے تمام کمیوں کے لیے کپڑے بھی دے کر بھجوا دیا جاتا تھا‘ ہم کپڑوں کو جوڑا کہتے تھے اس کی وجہ کپڑوں کے دو پیس یعنی تہبند یا دھوتی کے ساتھ کرتہ ہوتا تھا پنجابی زبان میں جوڑے کا مطلب دو یا ڈبل ہوتا ہے‘ رئیس عورتوں کا جہیز اور کمیوں کے جوڑے مدت تک یاد رکھے جاتے تھے اور لوگ ہر شام ان کا ذکر کرتے تھے۔
لالٹین میری یادداشت کی پہلی مشین تھی‘ ہمارے گھر میں چار لالٹینیں تھیں‘ تین میرے دادا شہر سے خرید کر لائے تھے جب کہ چوتھی میری دادی کو جہیز میں ملی تھی‘ یہ کروسین آئل سے جلتی تھیں‘ ہم اسے مٹی کا تیل کہتے تھے‘ لالٹین کے پانچ حصے ہوتے تھے‘ اس کے پیندے میں تیل سٹور ہوتا تھا جس کے اوپر لوہے کا ڈھکن ہوتا تھا‘ اس سے اوپر گول شیشہ ہوتا تھا‘ یہ لوکو ہوا سے بچانے کے لیے ہوتا تھا‘ اس کے اوپر اس کی چمنی ہوتی تھی‘ اس میں سوراخ ہوتے تھے تاکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ نکل سکے اور روشنی جلتی رہے‘ اس سے اوپر لوہے کی ہک ہوتی تھی جس کو کھینچنے سے شیشہ الگ ہو جاتا تھا اور لالٹین کی بتی کو ٹرم کرنا آسان ہو جاتا تھا‘ بتی باریک سوت کے دھاگوں کا گچھا ہوتی تھی‘ اسے آنکھ ٹائپ کے سوراخ سے گزار کر لالٹین کے پیندے میں تیل تک پہنچایا جاتا تھا‘ تیل بتی کے ذریعے اوپر آ جاتا تھا‘
اسے ماچس کے ذریعے آگ لگا دی جاتی تھی پھر اوپر سے ہک کھینچ کر شیشے کو ایڈجسٹ کیا جاتا تھا اور پھر ہک چھوڑ دی جاتی تھی جس کے بعد شیشہ ٹائیٹ ہو جاتا تھا‘ لالٹین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے اس کے اوپر لوہے کی تار لگی ہوتی تھی‘ مغرب کے بعد لالٹینیں جلا دی جاتی تھیں اور ان کی روشنی میں بستر لگتے تھے اور خواتین برتن سمیٹتی تھیں‘ یہ ایک آدھ گھنٹے کا کھیل ہوتا تھا جس کے بعد لالٹین کی ہک کھینچ کر شیشے کے اوپر تھوڑا سا گیپ پیدا کیا جاتا تھا اور پھر پھونک مار کر بتی بجھا دی جاتی تھی جس کے بعد پورا گائوں سو جاتا تھا‘ بتی بجھنے کا مطلب دن کا اختتام ہوتا تھا۔ لالٹین کی بتی کو ہر دوسرے تیسرے دن قینچی سے کاٹ کر ’’ری فریش‘‘ کیا جاتا ہے‘ عورتیں اور مرد جب تک لالٹین کی بتی آسانی سے کاٹ لیتی تھیں یا وہ ایک پھونک سے اسے بجھا لیتی تھیں اس وقت تک انہیں جوان اور صحت مند سمجھا جاتا تھا لیکن جوں ہی انہیں لالٹین کی بتی تلاش کرنے یا سوئی میں دھاگہ ڈالنے میں دقت محسوس ہوتی تھی تو یہ اعلان کر دیا جاتا تھا ان کی آنکھوں کا نور کم ہو گیا ہے اور اب ان کی آنکھیں بننی چاہییں‘ لوگ کالے موتیے کو نور کا چلا جانا سمجھتے تھے جب کہ پھونک سے بتی نہ بجھا پانے کو پھیپھڑوں کی کم زوری سمجھا جاتا تھا جس کے بعد اسے آرام کرنے کا مشورہ دیا جاتا تھا‘ لالٹین کے شیشے کاربن کی وجہ سے ہر رات سیاہ ہوتے تھے لہٰذا دن کے وقت بزرگ مرد اور عورتیں انہیں دھو کر ململ کے سفید کپڑے سے صاف کرتے تھے جس کے بعد شیشوں کو سوکھنے کے لیے دھوپ میں رکھ دیا جاتا تھا‘ اس زمانے میں لالٹین کی پوری انڈسٹری ہوتی تھی‘ دکانوں سے نئی بتیاں بھی ملتی تھیں‘ شیشے بھی اور مٹی کا تیل بھی‘ لالٹینیں ٹھیک کرنے والے بھی ہوتے تھے اور ان سے وقت لینا اتنا ہی مشکل تھا جتنا آج سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے ٹائم لینا۔
مجھے مدت بعد پتا چلہ لالٹین کا اصل نام لینٹرن (Lantern) ہے‘ اسے انگریز ہندوستان میں لے کر آیا تھا‘ اسے امریکا کی کمپنی سٹینڈرڈ آئل کمپنی اور برماشیل نے ہندوستان میں متعارف کرایا تھا‘ یہ لینٹرن اور کروسین آئل(مٹی کا تیل) سپلائی کرتی تھی‘ یہ سب سے پہلے سرکاری دفتروں اور گھروں میں استعمال ہوئی‘ ہندوستان میں اوگیل گلاس ورکس (Ogale) پہلی کمپنی تھی جس نے ممبئی میں لالٹین بنائی اور بیچنی شروع کی‘ اس کا مشہور برینڈ پرابھارکر تھا‘ میری دادی کو جہیز میں پرابھارکر لالٹین ملی تھی اور یہ پوری زندگی ان کے پاس رہی‘ ان کے انتقال کے بعد ہمارے ایک نالائق کزن نے بے بے جی (ہم سب انہیں بے بے جی کہتے تھے) کے تمام برتن‘ کھیس اور لالٹینیں بیچ دیے جس کا ہمیں آج بھی بہت افسوس ہے جب کہ دوسری تین لالٹینیں جرمن تھیں‘ وہ وزن میں بہت ہلکی تھیں‘ ان میں سے دو ہم کھاریاں اور لالہ موسیٰ میں استعمال کرتے رہے اور پھر وہ چپ چاپ وقت کے ہاتھوں ضائع ہو گئیں‘ ہندوستان میں سرخ رنگ کو لال کہا جاتا ہے‘ انگریز نے لینٹرن سب سے پہلے ریلوے میں استعمال کی تھی‘ یہ ٹرین سٹیشن پر اونچے کھمبے پر لگائی جاتی تھی جس کے سامنے سرخ شیشہ ہوتا تھا‘ یہ ریڈ سگنل ہوتا تھا جس کا مطلب ہوتا تھا ٹرین آ رہی ہے لہٰذا اب پٹڑیاں کراس نہ کریں‘ لوکل لوگوں نے سرخ رنگ کی وجہ سے لینٹرن کو لال ٹرین کہنا شروع کر دیا‘ ہم میں سے زیادہ تر ٹرین بھی نہیں بول سکتے لہٰذا یہ لال ٹرین سے لال ٹین ہو گیا اور یوں پورا لفظ بدل گیا اور ہم آج بھی اسے لالٹین ہی کہتے اور لکھتے ہیں‘ لالٹین مڈل کلاس کی مشین تھی جب کہ غریب لوگ سرسوں کے دیے جلاتے تھے‘ یہ طاقوں میں رکھے جاتے تھے اور ہوا سے بجھتے رہتے تھے‘ لالٹینیں ٹوٹنے سے بچانے کے لیے طاق یا چھتیوں میں رکھی جاتی تھیں‘ میرا پورا بچپن ان لالٹینوں اور دیوں کے ساتھ گزرا‘ ہمارے طاق ان کی کاربن کی وجہ سے کالے ہوتے تھے‘ انہیں صاف کرنا نحوست سمجھا جاتا تھا‘ آپ آج بھی اگر تقسیم سے پہلے کی عمارتیں دیکھیں تو آپ کو ان میں طاق بھی ملیں گے اور وہ سیاہ بھی ہوں گے‘ کاربن صاف نہیں ہوتی‘ یہ عمارتوں کے ساتھ ہی جاتی ہے چناں چہ یہ آج بھی عمارتوں کے گرنے کا انتظار کر رہی ہے۔
میری دوسری یاد اوپلے تھے‘ بھارت سے آئے مہاجر انہیں ’’پاتھیاں‘‘ کہتے تھے جب کہ ہم تھاپیاں کہتے تھے‘ یہ بھینسوں کی ’’شٹ‘‘ کی پیداوار ہوتی تھیں‘ بھینسوں کا براز اکٹھا کیا جاتا تھا اور گھر کی عورتیں اپنے ہاتھوں سے ان کے ’’کیک‘‘ سے بنا کر گلی کی دیواروں پر چپکا دیتی تھیں‘ یہ سورج اور ہوا میں سوکھ جاتی تھیں تو انہیں اتار لیا جاتا تھا اور انہیں جلا کر کھانا پکایا جاتا تھا‘ بھینسوں کی شٹ ’’گویاہ‘‘ کہلاتی تھی‘ میرا پورا بچپن گویاہ دیکھتے اور اس کی پاتھیوں میں کھانا پکتے دیکھتے ہوئے گزرا‘ ہر گھر میں پاتھیوں کا بالن کا کمرا ہوتا تھا‘ اس کی ایک سائیڈ پر پاتھیوں جب کہ دوسری سائیڈ پر خشک لکڑیوں کا ڈھیر ہوتا تھا‘ یہ بالن کہلاتا تھا اور عورتیں جی جان سے اس کی حفاظت کرتی تھیں‘ گویاہ تھاپنا عورتوں کا کام تھا جب کہ خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں کاٹ کر لانا مردوں کی ذمہ داری تھی‘ یہ لوگ شام کے وقت ڈھور ڈنگروں کو واپس لاتے وقت لکڑیاں اور خشک جھاڑیاں بھی گدھوں پر باندھ کر گھر لے آتے تھے‘ عورتیں اسے بالن کے کمرے میں سنبھال لیتی تھیں‘ دودھ سارا سارا دن اوپلوں کی ہلکی آنچ پر پکتا رہتا تھا جس سے اس کے اوپر ہلکے برائون رنگ کی ملائی کی موٹی تہہ جم جاتی تھی‘ میں نے آج تک اس سے زیادہ لذیذ چیز کوئی نہیں چکھی‘ میری دادی اس کا ٹکڑا کاٹ کر مجھے دیتی تھی اور میں رات کی باسی روٹی کے ساتھ اسے کھاتا تھا‘ آپ یقین کریں میں نے اگلی زندگی میں سینکڑوں قسم کے کھانے کھائے لیکن اف خدایا اس ملائی اور اس باسی روٹی کا ذائقہ مجھے دنیا کے کسی دستر خوان کسی ٹیبل پر نصیب نہیں ہوا (جاری ہے)۔



















































