منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف

datetime 1  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد نیوز ڈ یسک)  ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی بوسٹر ویکسینز صرف کووڈ-19 کے خلاف ہی مؤثر نہیں بلکہ مستقبل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے بعض ممکنہ کورونا وائرسز کے خلاف بھی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق بوسٹر ویکسینز جسم میں ایسے اینٹی باڈیز پیدا کرتی ہیں جو مختلف اقسام کے کورونا وائرسز کو پہچاننے اور ان کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، حتیٰ کہ ایسے وائرسز کے خلاف بھی جو ابھی انسانوں میں منتقل نہیں ہوئے۔

یہ تحقیق ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی، جس میں کیمبرج انسٹی ٹیوٹ آف تھیراپیوٹک امیونولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیز کے سائنسدانوں نے ان افراد کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا جن کی اوسط عمر 69 سال تھی اور جنہیں کورونا ویکسین کی چار خوراکیں، جن میں جدید بائی ویلنٹ بوسٹر بھی شامل تھا، لگ چکی تھیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے ان خون کے نمونوں میں موجود اینٹی باڈیز کو مختلف کورونا وائرسز کے خلاف جانچا، جن میں 2003 کا سارس وائرس اور چمگادڑوں و پینگولین میں پائے جانے والے ایسے کورونا وائرس بھی شامل تھے جو مستقبل میں انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بوسٹر ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز نے ان وائرسز کے خلاف بھی مؤثر دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور انہیں انسانی خلیات میں داخل ہونے سے روکنے میں مدد دی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ اگر آئندہ کسی نئے کورونا وائرس کا جانوروں سے انسانوں میں انتقال ہوتا ہے تو انسانی جسم پہلے سے موجود مدافعت کی بدولت ابتدائی مرحلے میں بہتر انداز میں اس کا مقابلہ کر سکے گا، جس سے نئی ویکسین تیار کرنے کے لیے مزید وقت میسر آ سکتا ہے۔

معمر افراد کے لیے امید افزا نتائج

تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق یہ نتائج خاص طور پر عمر رسیدہ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں کے لیے اہم ہیں، کیونکہ بوسٹر ویکسینز انہیں مستقبل میں سامنے آنے والی ممکنہ وباؤں کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔

دنیا بھر میں اربوں خوراکیں استعمال

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک کورونا ویکسین کی 13 ارب سے زائد خوراکیں لگائی جا چکی ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر بیماری کے پھیلاؤ اور اس کے سنگین اثرات کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…