بدھ‬‮ ، 29 جولائی‬‮ 2026 

Foot In The Door

datetime 30  جولائی  2026

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے پاس کھانے کے لیے گاجریں اور رہنے کے لیے جگہ موجود تھی‘ وہ سارا دن اپنے گھرمیں رہتا تھا‘

گاجریں کھاتا تھا‘ درخت کے نیچے لیٹ جاتا تھا‘ شام کو ٹہلتا تھا‘ نچلی سروں میں گانا گاتا تھا اور سو جاتا تھا‘ اسے کوئی فکر‘ کوئی فاقہ نہیں تھا لیکن پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ شام کے وقت لومڑی اس کے پاس آئی‘ اس کی تعریف کی اور پھر اس سے ایک گاجر مانگ لی‘ خرگوش نے گاجروں کے ڈھیر کی طرف دیکھا اور پھر سوچا میرا خزانہ بھرا ہوا ہے‘ ایک گاجر سے کیا فرق پڑے گا‘ اس نے ڈھیر سے گاجر اٹھائی اور لومڑی کو پیش کر دی‘ لومڑی نے شکریہ ادا کیا اور تحفہ لے کر واپس چلی گئی‘ دوسرے دن وہ دوبارہ آئی اور ایک اور گاجر مانگ لی‘ خرگوش نے یہ بھی دے دی اور یہ اس کی زندگی کی بڑی غلطی تھی‘ اسے چاہیے تھا وہ لومڑی سے پوچھتا ’’جناب آپ گوشت خور ہیں‘ آپ نے گاجر کا کیا کرنا ہے؟‘‘ لیکن وہ خاموش رہا اور چپ چاپ دوسری مرتبہ بھی گاجر دے دی‘

تیسرے دن لومڑی پھر آئی اور اس نے اس سے پوچھے بغیر گاجر اٹھائی اور مسکرا کر چلی گئی‘خرگوش کو یہ حرکت بری لگی لیکن وہ خاموش رہا اور اس کے بعد نیا سلسلہ شروع ہو گیا‘ لومڑی آتی تھی‘ پوچھے بغیر گاجر اٹھاتی تھی اور چلی جاتی تھی‘ خرگوش خاموشی سے اسے دیکھتا رہ جاتا تھا‘ یہ سلسلہ بھی دس پندرہ دن چلتا رہا‘ اس کے بعد ایک دن لومڑی آئی اور خرگوش کو آرڈر دیا‘ آج میرے گھر میں پارٹی ہے تم آٹھ دس اچھی سی گاجریں میرے بھٹ میں رکھ آئو‘ خرگوش کو یہ آرڈر برا لگا لیکن وہ اس وقت تک ذہنی طور پر لومڑی کا اسسٹنٹ بن چکا تھا چناں چہ اس نے گاجریں اٹھائیں اور لومڑی کے بھٹ میں چلا گیا وہاں اس نے دیکھا لومڑی اس کے گھر سے جو بھی گاجر لاتی تھی‘ وہ اسے سائیڈ پر پھینک دیتی تھی اور وہ پڑی پڑی خراب ہو جاتی تھی یعنی وہ گاجریں عملاً لومڑی کے کسی کام کی نہیں تھیں مگر وہ اس کے باوجود روزانہ اس کی گاجریں لا رہی تھی‘ خرگوش کو چاہیے تھا وہ لومڑی سے اس اصراف اور حماقت کی وجہ پوچھتا لیکن وہ کیوں کہ اس وقت تک اس کے زیر اثر آ چکا تھا لہٰذا وہ خاموش رہا اور گاجریں رکھ کر چپ چاپ واپس چلا گیا۔

لومڑی اب خود گاجر لینے نہیں جاتی تھی‘ وہ اسے دور سے حکم دے دیتی تھی اور وہ گاجریں لے کر حاضر ہو جاتا تھا‘ لومڑی نے ایک دن اسے بلایا اور اسے اپنی کمر پر خارش کا حکم دے دیا‘ خرگوش آدھا دن اس کی کمر پر خارش کرتا رہا‘ لومڑی اس دوران سوئی رہی‘ وہ شام کے وقت جاگی اور اسے اپنے بھٹ کی صفائی پر لگا دیا‘ خرگوش نے یہ بھی کر دیا‘ اس کے بعد اس کا نیا معمول بن گیا‘ وہ روز گاجر اٹھاتا‘ لومڑی کے بھٹ میں آتا‘ گاجریں رکھتا‘ اس کی کمر پر خارش کرتا اور آخر میں صفائی کر کے چلا جاتا‘ یہ معمول بھی چند دن چلا‘ اس کے بعد ایک دن لومڑی نے اسے بلایا اور کہا ’’میں دوسرے جنگل جا رہی ہوں‘ دو دن بعد آئوں گی تم اس دوران میرے بھٹ کی حفاظت کرنا‘‘ خرگوش نے سینے پر ہاتھ رکھ کر تابعداری کا یقین دلادیا‘ لومڑی چلی گئی اور اس کی غیرموجودگی میں خرگوش اس کے بھٹ کی حفاظت کرتا رہا‘ لومڑی واپس آئی‘ اس نے بھٹ کی حالت دیکھی تو اس سے ناراض ہو گئی‘ اس کا کہنا تھا ’’کیا میرے بھٹ کی صفائی تمہارے باپ نے کرنی تھی‘ تم آ کر پڑے رہے‘ تمہیں نظر نہیں آیا‘ بھٹ میں گاجریں گل رہی ہیں اور ہر طرف ان کی بو پھیلی ہوئی ہے‘ تمہیں اتنی توفیق نہیں ہوئی تم انہیں اٹھا کر باہر ہی پھینک دیتے‘ چلو اٹھو اور پورے بھٹ کو صاف کرو‘ خرگوش نے لومڑی سے معافی مانگی اور بھٹ کی صفائی پر لگ گیا‘ لومڑی نے اس کے بعد اس سے بھٹ کے باہر سے بھی صفائی کرائی‘ وہ جب تھک کر چور ہوگیا تو لومڑی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا میں یہ سب کچھ تمہارے بھلے کے لیے کر رہی ہوں‘ تم اگر’’ ریسپانسی بل‘‘ ہو جائو گے تو تمہاری اگلی زندگی بہت اچھی گزرے گی‘ خرگوش اس کا ممنون ہو گیا اور اس نے سوچا یہ زبان کی کڑوی لیکن دل کی بہت اچھی ہے‘ اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اٹھ کر دوبارہ کام پر جت گیا‘ لومڑی نے چند دن بعد اس سے کہا تم روز گھر جاتے اور اگلے دن آتے ہو‘ اس آمدورفت میں تمہارا بہت وقت ضائع ہو جاتا ہے‘

تم اپنا گھر چھوڑو اور میرے پاس شفٹ ہو جائو‘ خرگوش خوش ہو گیا‘ اس نے اپنا سامان اٹھایا‘ اپنا بل کسی دوسرے خرگوش کو دیا اور لومڑی کے گھر منتقل ہو گیا‘ اس کے بعد خرگوش کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں‘ وہ کھیت سے لومڑی کے لیے گاجر لاتا تھا‘اس کی کمر پر خارش کرتا تھا‘ بھٹ کی اندر اور باہر دونوں جگہوں سے صفائی کرتا تھا اور آخر میں چوکی دار بن کر بھٹ کے دروازے پربیٹھ جاتا تھا‘ یہ سلسلہ خرگوش کے بڑھاپے تک جاری رہا‘ وہ جب بہت لاغر ہو گیا تو لومڑی ایک دن کسی دوسرے خرگوش سے گاجر مانگ کر لے آئی اور چند دن بعد ایک اور خرگوش اس کی کمر پر خارش کر رہا تھا جب کہ پرانا اور بوڑھا خرگوش دروازے پر بیٹھ کر سوچ رہاتھا میں بوڑھا اور کم زور ہو گیا ہوں‘ اس بے چاری کے پاس اب دوسرا کیا آپشن بچا تھا‘ اس نے بہت اچھا کیا‘ یہ ایک اور خرگوش لے آئی‘ ہم اب دونوں مل کر اس کی خدمت کیا کریں گے‘ اس سے میری ذمہ داری کم ہو جائے گی۔ خرگوش کی یہ خوش فہمی چند دن چلتی رہی لیکن پھر ایک دن لومڑی نے اسے ندی سے پانی لانے کے لیے کہا‘ وہ گیا لیکن راستہ بھول گیا‘ وہ بڑی مشکل سے اپنے سارے احسانات گنوانے لگا‘ اس نے اسے بتایا میں نے اپنی ساری زندگی تمہاری خدمت میں برباد کر دی‘ لومڑی خاموشی سے سنتی رہی جب خرگوش کی تقریر ختم ہو گئی تو اس نے اس کے پچھواڑے پر لات مار کر کہا ’’جائو دفع ہو جائو پھر‘‘ خرگوش کو بہت برا لگا‘ وہ اٹھا اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا لیکن جب وہ اپنے گھر پہنچا تو وہاں سب کچھ تبدیل ہو چکا تھا‘ اس کے گھر پر نئے خرگوش قابض ہو چکے تھے اور گاجروں کے کھیتوں کی ملکیت بھی بدل چکی تھی‘ اس نے نئے مالکان کو اپنا تعارف کرایا لیکن کسی نے اسے نہیں پہچانا‘ وہ اسے رات کے وقت ٹھہرانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے‘ خرگوش سکتے کے عالم میں یہ صورت حال دیکھتا رہا اور پھر خاموشی سے کان لپیٹ کر چلا گیا‘ اگلی صبح لومڑی کو نئے خرگوش نے جگا کر بتایا بابا واپس آگیا ہے اور بھٹ کے باہر بیٹھ کر معافی مانگ رہا ہے‘ لومڑی نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور کہا ’’مرن دے سو کنجرنوں‘‘۔

یہ کہانی صرف کہانی ہے لیکن اس کے پیچھے موجود فلاسفی حقیقی ہے‘ سائیکالوجی میں اس صورت حال کو’’فٹ ان دی ڈور ایفیکٹ‘‘ کہا جاتا ہے‘ اس ایفیکٹ میں کوئی طاقتور شخص یا ملک کسی کم زور شخص سے شروع میں گاجر مانگتا ہے‘ وہ اسے بڑے آدمی کی بندہ پروری سمجھ کر اسے فوراً گاجر دے دیتا ہے اور یہاں سے تابعداری کا کھیل شروع ہو جاتا ہے‘ وہ گاجریں مانگتا جاتا ہے‘ یہ دیتا جاتا ہے اور یہاں تک کہ ایک دن مانگنے والا مانگنا بند کر دیتا ہے جب کہ اس وقت تک دینے والے کو گاجر پیش کرنے کی عادت ہو چکی ہوتی ہے چناں چہ وہ خود ہی گاجر لے کر حاضر ہو جاتا ہے اور یہاں سے اس کی غلامی کا عمل شروع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ اس کا انجام پہلے خرگوش جیسا ہو جاتا ہے‘ مالک اپنا دروازہ بند کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن غلام اپنا پائوں دروازے میں پھنسا کر منتیں کرتا رہتا ہے‘ آپ کسی دن اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کو ہزاروں سینکڑوں ایسے خرگوش دکھائی دیں گے‘ یہ لوگ ایک گاجر سے غلامی تک پہنچ گئے تھے اور آخر میں ظالم کے دروازے پر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے تھے‘ یہ لوگ اگر اس انجام سے بچنا چاہتے تھے پھر انہیں پہلی گاجر دیتے وقت احتیاط کرنی چاہیے تھی‘ انہیںمانگنے والے سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے تھا آپ گاجر نہیں کھاتے‘ آپ نے یہ کیا کرنی ہے؟ وہ جو بھی جواب دے آپ اسے بے شک پہلے دن گاجر دے دیتے لیکن جب وہ دوسری مرتبہ مانگے تو اسے انکار کر دینا چاہیے تھا اور اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو آپ بے شک اسے گاجریں دیتے رہتے لیکن جس دن وہ مطالبہ نہ کرتا اس دن اس سے ہرگز ہرگز رابطہ کر کے یہ نہیں پوچھنا چاہیے تھا ’’آپ آج گاجر لینے نہیں آئے‘‘ کیوں کہ اگر آپ نے اس سے پوچھ لیا تو پھر وہ آپ کی غلامی اور اس کی آقائی کا پہلا دن ہو گا‘

آپ اس کے بعد نہ صرف خود گاجریں لے کر اس کے گھر جائیں گے بلکہ آپ اس کے گھر کی چوکی داری بھی کریں گے‘ اس کی کمر پر خارش بھی فرمائیں گے‘ صفائی بھی کریں گے اور آخر میں اس سے مار بھی کھائیں گے اور اس کے بعد اپناپائوں اس کے دروازے میں دے کر منتیں بھی کریں گے۔
یہ غلامی اور آقائی کی نفسیات ہے‘ میں نے زندگی میں بے شمار ایسے لوگ دیکھے ہیں جو دوستوں کے لیے ہر وقت دستیاب رہتے تھے‘ دوست انہیں کہتے تھے ’’چل آ جا‘‘ اور وہ بے چارے اپنے اہم ترین کام چھوڑ کر دوستوں کے ساتھ چل پڑتے تھے اور یوں آخر میں ان کا انجام خرگوش جیسا ہوا اور یہ معاملہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ دنیا کی بے شمار خرگوش قومیں بھی’’ فٹ ان دی ڈور ایفیکٹ‘‘ کا شکار ہو کر ختم ہو جاتی ہیں‘ پاکستان کے ساتھ بھی اس وقت یہی ہو رہا ہے‘ امریکا گاجریں مانگتا جا رہا ہے اور ہم دیتے چلے جا رہے ہیں لہٰذا بات اب چوکی داری تک چلی گئی ہے اور یہ بھی صرف امریکا کی نہیں ہے بلکہ ہمیں امریکا کے دوستوں کے گھروں کی رکھوالی کا ٹھیکہ بھی دیا جا رہا ہے اور ہم اس پر خوش بھی ہیں لیکن سوال یہ ہے اس ٹھیکے داری کا انجام کیا ہوگا؟ کیا ہمیں آخر میں دروازے میں پائوں پھنسا کر منتیں نہیں کرنا پڑیں گے؟ اگر نہیںتو کیا اس بار تاریخ بدل جائے گی اور اگر یہ واقعی بدل گئی تو کیا یہ معجزہ نہیں ہوگا؟چناں چہ آیے ہم سب معجزے یا پھر دروازے میں پائوں پھنسانے کا انتظار کرتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…