اسلام آباد(نیوزڈیسک) بجلی صارفین کے لیے اگست کے ماہانہ بلوں سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپے 20 پیسے تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اگر متعلقہ ادارے اس تجویز کی منظوری دے دیتے ہیں تو صارفین کو اگست کے بلوں میں اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے جون 2026 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے پاس جمع کرا دی ہے۔ نیپرا درخواست کا جائزہ لینے اور سماعت کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد ہی اضافے کی حتمی شرح کا اعلان ہوگا۔درخواست میں جون کے دوران بجلی پیدا کرنے کے مختلف ذرائع کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 39 فیصد بجلی پن بجلی سے حاصل کی گئی، جبکہ مقامی کوئلے سے 10.11 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 12.65 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔
اسی رپورٹ کے مطابق درآمدی گیس سے 11.02 فیصد جبکہ نیوکلیئر ذرائع سے 13.40 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ سی پی پی اے نے پیداواری لاگت اور ایندھن کے اخراجات میں تبدیلی کو بنیاد بناتے ہوئے نرخوں میں اضافے کی سفارش کی ہے۔اگر نیپرا اس درخواست کی منظوری دے دیتی ہے تو بجلی کے نرخ ایک ماہ کے لیے فی یونٹ ایک روپے 20 پیسے تک بڑھ سکتے ہیں، جس کا مالی اثر اگست کے بلوں میں صارفین پر منتقل ہونے کا امکان ہے۔یہ ممکنہ اضافہ کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کو متاثر کر سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک کے صارفین بھی اس فیصلے کی زد میں آ سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی صورتحال نیپرا کے باضابطہ فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگی۔



















































