منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

بابر اعظم نے دوبارہ کپتانی قبول کرنے سے پہلے کیا شرط رکھی تھی؟، بھارتی میڈیا کا بڑا دعویٰ

datetime 28  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے معروف بلے باز بابر اعظم سے متعلق بھارتی میڈیا میں ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے،

جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے سے قبل ایک اہم شرط عائد کی تھی۔بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ نے شان مسعود کی قیادت میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیسٹ ٹیم کے لیے نئے کپتان کی تلاش شروع کی اور اس سلسلے میں بابر اعظم سے رابطہ کیا گیا۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹیسٹ کپتان کے اعلان سے قبل، 5 جولائی سے پہلے دو قومی سلیکٹرز نے بابر اعظم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران بابر اعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں ٹیسٹ ٹیم کی قیادت دی جاتی ہے تو مستقبل میں انہیں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سمیت تینوں فارمیٹس کی مستقل کپتانی بھی سونپی جائے۔رپورٹ کے مطابق سلیکشن کمیٹی کا خیال تھا کہ اس وقت ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے لیے بابر اعظم سے بہتر کوئی مضبوط امیدوار موجود نہیں، اسی وجہ سے انہیں اس ذمہ داری کی پیشکش کی گئی۔بھارتی میڈیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سلیکٹرز نے بابر اعظم کو یقین دہانی کرائی کہ اگر پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں بہتر نتائج دیتی ہے تو انہیں تینوں فارمیٹس کی قیادت دینے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بابر اعظم ماضی سے ہی قومی ٹیم کے تینوں فارمیٹس کی مشترکہ کپتانی کے خواہاں رہے ہیں۔اس وقت قومی ون ڈے ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق شاہین بھی کپتانی کے حوالے سے ایک ناخوشگوار تجربہ رکھ چکے ہیں، کیونکہ انہیں 2024 میں نیوزی لینڈ کے خلاف صرف ایک ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے شان مسعود کی بطور ٹیسٹ کپتان کارکردگی کا تقریباً دو ماہ تک جائزہ لینے کے بعد تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ شان مسعود نے دسمبر 2023 سے اب تک 16 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی، جن میں پاکستان کو 12 مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ابتدا میں سلیکٹرز نے سلمان آغا کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کی پیشکش کی تھی، تاہم انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان آغا ایسی ٹیم کی قیادت نہیں کرنا چاہتے تھے جو مسلسل خراب کارکردگی اور اندرونی مسائل کا شکار ہو۔مزید کہا گیا ہے کہ سلمان آغا خود بھی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کے دوران دباؤ کا سامنا کر چکے ہیں، جبکہ رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ان کی حکمت عملی کو بھی تنقید کا سامنا رہا۔ پاکستان ٹیم بھارت سے گروپ مرحلے کا اہم میچ ہارنے کے بعد سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی، جبکہ سپر سکس مرحلے میں انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہو گئی۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بابر اعظم نے نومبر 2023ء میں تینوں فارمیٹس کی کپتانی اس لیے چھوڑی تھی کیونکہ وہ صرف ایک فارمیٹ کے کپتان بننے پر آمادہ نہیں تھے۔ اس وقت انہیں ایک فارمیٹ کی قیادت کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم کی ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ انہوں نے 20 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی، جن میں 10 میں کامیابی، 6 میں شکست جبکہ 4 میچ ڈرا ہوئے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…