اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے
مسابقتی امتحان نیٹ (UG) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفا دے دیا، جبکہ ان کے استعفے کا متن بھی منظرِ عام پر آ گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں لکھا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران انہوں نے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کام کیا اور ہمیشہ نوجوانوں کے مستقبل کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھا۔انہوں نے کہا کہ 3 مئی 2026 کو ہونے والے نیٹ یو جی امتحان میں بے ضابطگیوں کی اطلاعات موصول ہوتے ہی حکومت نے فوری اقدامات کیے۔ معاملہ سی بی آئی کے سپرد کیا گیا، امتحان منسوخ کیا گیا، دوبارہ امتحان کا انعقاد عمل میں لایا گیا اور آئندہ برس سے امتحانی نظام کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آغاز سے ہی انہوں نے اس معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کی اور کبھی بھی اپنی ذمہ داری سے گریز نہیں کیا۔ تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر نے طلبہ کو گمراہ کرنے اور اصلاحی اقدامات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس پر انہیں شدید دکھ پہنچا۔
دھرمیندر پردھان کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے واقعات ان کے لیے تکلیف دہ رہے، لیکن ان کے نزدیک معاملہ ذاتی مفاد یا عہدے کا نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا ہے، جو بھارت کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ جنتر منتر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں جاری احتجاج، قومی یکجہتی کے تقاضوں، طلبہ کے مستقبل کو قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے اور موجودہ صورتحال سے ملک دشمن عناصر کو فائدہ اٹھانے سے روکنے کے پیش نظر انہوں نے وزیرِ اعظم کو اپنا استعفا پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔



















































