ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

بی جے پی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، وزیر تعلیم دھرمیندر پرادھان مستعفی

datetime 25  جولائی  2026 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے مسابقتی امتحانات، خصوصا نیٹ، یو جی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر متعدد شہروں میں جاری احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اپنے استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ میں نے گزشتہ 40 برس طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کیلئے کام کیا اور نوجوانوں کے خوابوں کو ہمیشہ اپنی اخلاقی ذمے داری سمجھا۔انہوں نے کہا کہ 3 مئی 2026 کو ہونے والے نیٹ، یو جی کے امتحان میں بے ضابطگیوں کے سامنے آنے پر حکومت نے فوری طور پر تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کیں، امتحان منسوخ کیا، دوبارہ امتحان کروایا اور آئندہ سال سے اسے کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔دھرمیندر پردھان نے کہا کہ میں نے ابتدا ہی سے پوری ذمے داری قبول کی تھی اور کبھی حالات سے منہ نہیں موڑا تاہم بعض ذمے دار افراد نے طلبہ کو گمراہ کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جس پر مجھے شدید دکھ پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں کے واقعات نے مجھے دل گرفتہ کیا لیکن یہ میری ذاتی انا کا مسئلہ نہیں، ملک کے نوجوان ہی بھارت کی اصل طاقت ہیں۔دھرمیندر پردھان نے کہا کہ جنتر منتر اور ملک بھر کی صورتِ حال، قومی یکجہتی، طلبہ کے مستقبل کو قانونی پیچیدگیوں سے بچانے اور احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا فائدہ ملک دشمن عناصر کو نہ پہنچانے کے لیے میں نے وزیرِ اعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا جسے وزیرِ اعظم نے منظور بھی کر لیا۔دریں اثناء بھارتی دارالحکومت دہلی میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد جنتر منتر پر جشن کا سماں رہا۔بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ دینے اور مودی کی جانب سے اسے منظور کرنے کی بھارتی میڈیا نے تصدیق کی ہے۔

ترجمان کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا کہ ہمارے تمام مطالبات باضابطہ تحریری طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں، ہم گھر چلے جائیں گے۔واضح رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تقریبا 2 ماہ قبل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج شروع کیا گیا تھا، جس میں شعبہ تعلیم کے حوالے سے معروف بھارتی شخصیت سونم وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔دریں اثناء کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج ختم کرنے سے قبل حکومت کو مزید 2 مطالبات بھی پورے کرنا ہوں گے۔پارٹی کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اتوار کو ملک بھر میں پرامن مشعل بردار مارچ کیے جائیں گے۔پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے اسے ایک بہت بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سہ پہر ساڑھے 3 بجے بلایا گیا ہے، تاہم جب تک تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے اور انہیں تحریری شکل نہیں دی جاتی، ہم احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ بانی صدر کاکروچ جنتا پارٹی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ حکومت کہتی تھی کہ ان کی سرکار میں استعفے نہیں ہوتے، مگر جھکتی ہے دنیا، جھکانے والے ہونے چاہئیں، ہم نے کر دکھایا۔انہوںنے کہاکہ یہ پہلی وکٹ ہے، ہم یہاں رکیں گے نہیں، یہ تو بس شروعات ہے، تمام طلبہ اور رضاکاروں کو سلیوٹ کرتا ہوں جو گزشتہ 36 دن سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک حکومت 2 مزید مطالبات پورے نہیں کرتی۔ابھیجیت دیپکے نے مطالبہ کیا کہ پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے اور 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈان میں ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت کے سامنے نہ جھکا جائے تو استعفی لیا جا سکتا ہے اور جمہوریت میں ڈرنا نہیں چاہیے۔رہنما بھارتی کانگریس راہول گاندھی نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ نریندر مودی بھارت کا ماضی ہیں اور ماضی کبھی مستقبل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیرِ اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے سے جمہوریت کی جیت ہوئی۔عام آدمی پارٹی ترجمان کے مطابق یہ آئین، نوجوانوں اور ملک بھر کے عوام کی فتح ہے۔بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ یہ جمہوریت، امن، صبر اور استقامت کی فتح ہے، احتساب سے اصلاحات کی جانب پہلا قدم ہے، کاکروچ جنتا پارٹی اور جین زی کو مبارک ہو، تمام شہریوں کا شکریہ جنہوں نے ڈرنے کے بجائے ملک کے ہر کونے سے آواز بلند کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…