اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے،
جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔منگل کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال غالب رہی۔ مشرقِ وسطیٰ میں تازہ جھڑپوں کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ بڑھ گیا کہ تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہو گیا۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 86 سے 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) پہلی بار دوبارہ 80 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلا گیا۔مارکیٹ رپورٹس کے مطابق گزشتہ تجارتی سیشن کے دوران دونوں اہم بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 سے 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو توانائی کی عالمی منڈی میں مزید اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں اضافے کا امکان موجود ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



















































