بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

آبنائے ہرمز کا متبادل تیار! متحدہ عرب امارات نے نئی بندرگاہ بنانے کا بڑا فیصلہ کر لیا

datetime 15  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے ملکی تجارتی سرگرمیوں کو مزید محفوظ بنانے اور دبئی کی بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے کے لیے ریاست فجیرہ میں ایک نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر ڈی پی ورلڈ کام کر رہی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کے ساتھ مختلف انتظامی اور تکنیکی امور پر مشاورت بھی جاری ہے۔ منصوبے کے تحت نئی بندرگاہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ موجودہ پورٹ آف فجیرہ میں جدید کنٹینر ٹرمینل بھی قائم کیا جائے گا تاکہ درآمدات اور برآمدات کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا اہم مقصد دبئی کی جبل علی پورٹ پر انحصار کم کرنا اور ایسا متبادل بحری راستہ فراہم کرنا ہے، جس کے ذریعے تجارتی سامان کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر نقل و حمل کی سہولت حاصل ہو۔حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو درپیش خطرات کے بعد امارات نے اپنی تجارتی اور معاشی حکمت عملی کا ازسرِنو جائزہ لیا ہے۔ اسی تناظر میں فجیرہ کو متبادل تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث جبل علی پورٹ کی سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے، جس کے بعد متبادل بندرگاہ کی ضرورت مزید اہمیت اختیار کر گئی۔منصوبہ مکمل ہونے کے بعد کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر متحدہ عرب امارات میں لانے اور بیرونِ ملک بھیجنے کی سہولت میسر ہوگی، جس سے سپلائی چین کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے گا۔

ڈی پی ورلڈ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اگر منصوبہ مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھتا رہا تو نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کی جا سکتی ہے۔اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ فجیرہ میں نئی بندرگاہ کی تعمیر کا مقصد جبل علی پورٹ کا متبادل بنانا نہیں بلکہ ملک کے لیے ایک اضافی اور محفوظ تجارتی راستہ فراہم کرنا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ابوظبی پہلے ہی اپنے خام تیل کا ایک حصہ فجیرہ کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جبکہ مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے اس روٹ سے تیل کی برآمدات میں مزید اضافہ کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل متحدہ عرب امارات کی بندرگاہی حکمت عملی، علاقائی تجارت اور خلیجی بحری نقل و حمل میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے، جس سے ملک کی اقتصادی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔



کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…